فلسطین اسرائیل تنازع

غزہ پر اسرائیل کی جنگ کے دوران شرقِ اوسط کے لیے پروازیں منسوخ

لوگوں کی سفر کی طلب میں کمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سفری تجزیاتی فرم فارورڈ کیز کے مطابق غزہ پر اسرائیل کی جنگ کے آغاز سے دنیا بھر بالخصوص امریکہ میں بین الاقوامی پروازوں کی بکنگ میں کمی آئی ہے کیونکہ لوگ شرقِ اوسطٰ اور دنیا بھر کے دورے منسوخ کر رہے ہیں۔

7 اکتوبر کو حماس کی دراندازی اور اسرائیل کے غزہ پر جوابی فضائی اور زمینی حملوں کے بعد سے عالمی سطح پر سفری طلب میں کمی آئی ہے۔ حماس کے غیر متوقع حملے کے بارے میں فلسطینی حکام کہتے ہیں کہ اس میں 10,000 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

فارورڈ کیز فریم میں نائب صدر اولیور پونٹی نے ایک بیان میں کہا، "یہ جنگ ایک تباہ کن، دل شکن انسانی المیہ ہے جسے ہم سب روزانہ اپنی ٹی وی اسکرینوں پر دیکھ رہے ہیں۔ یہ لازماً لوگوں کو اس خطے کا سفر کرنے سے روکے گا لیکن اس سے صارفین کے دوسری جگہوں پر سفر کرنے کے اعتماد میں بھی کمی آئی ہے۔"

فارورڈ کیز کی طرف سے پرواز کے ٹکٹنگ ڈیٹا کے مطابق حملے سے تین ہفتے قبل جاری کردہ ٹکٹوں کی تعداد کے مقابلے میں 7 اکتوبر کے حملے کے بعد تین ہفتوں میں امریکہ سے بین الاقوامی پروازوں کی بکنگ میں 10 فیصد کمی واقع ہوئی۔

شرقِ اوسطٰ کے لوگ بھی کم سفر کر رہے ہیں اور اس خطے میں جاری ہونے والے بین الاقوامی پروازوں کے ٹکٹوں میں اسی عرصے میں 9 فیصد کمی آئی ہے۔ حملے کے بعد تین ہفتوں میں اس خطے کا سفر کرنے کے لیے بین الاقوامی پروازوں کی بکنگ میں 26 فیصد کمی واقع ہوئی۔

بین الاقوامی پروازوں کی بکنگ تمام خطوں میں اوسطاً 5 فیصد گر گئی جس سے کووڈ-19 وبا سے بین الاقوامی سفر کی عالمی بحالی پر اثر پڑا۔

پونٹی نے کہا کہ اس حملے سے ایک دن پہلے کی بکنگ سے پتہ چلتا ہے کہ سال کی آخری سہ ماہی میں عالمی فضائی سفر 2019 کی سطح کا 95 فیصد بحال ہو جانا تھا لیکن اکتوبر کے آخر تک آؤٹ لک دوبارہ گر کر 88 فیصد رہ گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں