فلسطین اسرائیل تنازع

ہسپتال نئے اسرائیلی حملوں کی زد میں ہیں: غزہ حکام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

غزہ کے حکام نے بتایا کہ اسرائیل نے جمعہ کے روز کم از کم تین ہسپتالوں پر یا اس کے قریب فضائی حملے کیے جس سے صحت کا نظام مزید خطرے سے دوچار ہو گیا جس کو ہزاروں ہلاکتوں اور فلسطینی علاقے میں حماس-اسرائیل جنگ سے بے گھر ہونے والے افراد کی بہت بڑی تعداد کا سامنا ہے۔

غزہ کی وزارتِ صحت کے ترجمان اشرف القدرہ نے الجزیرہ ٹیلی ویژن کو بتایا، ''اسرائیلی قبضے نے گذشتہ گھنٹوں کے دوران متعدد ہسپتالوں پر بیک وقت حملے کیے''۔ قدرہ نے کہا کہ اسرائیل نے غزہ شہر کے سب سے بڑے اسپتال الشفاء کے صحن کو نشانہ بنایا اور اس میں جانی نقصان ہوا تاہم انہوں نے تفصیلات فراہم نہیں کیں۔ اسرائیل نے کہا الشفاء کے نیچے (زیرِ زمین) حماس کے خفیہ کمانڈ سینٹرز اور سرنگیں ہیں جبکہ حماس ان الزامات کی تردید کرتی ہے۔

اسرائیل کی فوج نے قدرہ کے اس بیان پر کوئی فوری تبصرہ نہیں کیا جس کی رائٹرز آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکا۔

7 اکتوبر کو جنوبی اسرائیل پر عسکریت پسندوں کے چھاپے کے بعد حماس کا صفایا کرنے کے لیے ایک ماہ پرانی اسرائیلی فوجی مہم نے غزہ کے ہسپتالوں کو مشکلات سے دوچار کر دیا ہے کیونکہ طبی سامان، صاف پانی اور جنریٹر چلانے کے لیے ایندھن ختم ہو چکے ہیں۔

غزہ کی وزارتِ صحت نے کہا ہے کہ غزہ کے 35 میں سے 18 ہسپتال اور 40 دیگر مراکزِ صحت بمباری سے ہونے والے نقصان یا ایندھن کی کمی کی وجہ سے بند ہو گئے ہیں۔

فلسطینی میڈیا نے جمعہ کے روز الشفاء کی ویڈیو فوٹیج شائع کی جس کی روئٹرز فوری طور پر توثیق کرنے سے قاصر تھا۔ اس میں ایک پارکنگ لاٹ پر اسرائیلی حملے کے بعد کا منظر دکھایا گیا ہے جہاں بے گھر فلسطینیوں کو پناہ دی گئی تھی اور صحافی مشاہدہ کر رہے تھے۔

وڈیو میں ایک شخص کی سٹریچر پر رکھی لاش کے پاس خون کا ایک تالاب نظر آتا ہے۔

ہیومن رائٹس واچ نے سوشل میڈیا سائٹ ایکس پر کہا، "مسلسل حملوں اور (الشفاء) کے قریب لڑائی سے ہمیں وہاں موجود ہزاروں شہریوں کی خیریت کے بارے میں سخت تشویش ہے جو طبی نگہداشت اور پناہ گاہ کے متلاشی ہیں اور ان میں کئی بچے ہیں۔"

القدرہ نے کہا کہ الرانتیسی پیڈیاٹرک ہسپتال اور النصر چلڈرن ہسپتال نے جمعہ کے روز "براہِ راست حملوں اور بمباری کا ایک سلسلہ دیکھا ہے"۔ انہوں نے کہا کہ الرانتیسی ہسپتال کے صحن میں ہونے والے حملوں سے گاڑیوں کو آگ لگ گئی لیکن وہ جزوی طور پر بجھا دی گئی۔

انڈونیشیا کی وزارتِ خارجہ نے جمعہ کو کہا کہ انڈونیشیئن ہسپتال کے قریب راتوں رات دھماکے ہوئے جس سے تنگ ساحلی انکلیو کے شمالی سرے پر واقع ہسپتال کے کچھ حصوں کو نقصان پہنچا۔ یہ نہیں بتایا گیا کہ دھماکے کا ذمہ دار کون تھا اور کسی ہلاکت یا زخمی کی اطلاع نہیں دی۔

وزارت نے ایک بیان میں کہا، "انڈونیشیا ایک بار پھر غزہ میں شہریوں اور شہری اشیاء بالخصوص انسانی سہولیات (ہسپتال وغیرہ) پر وحشیانہ حملوں کی مذمت کرتا ہے۔"

اسرائیل نے کہا ہے کہ 1400 افراد حماس کے 7 اکتوبر کے چھاپے میں ہلاک ہو گئے جن میں زیادہ تر عام شہری تھے اور تقریباً 240 کو یرغمال بنا لیا گیا جس سے اسرائیلی حملے شروع ہوئے۔ اسرائیل نے کہا ہے کہ غزہ میں اس کے 35 فوجی ہلاک ہوئے۔

فلسطینی حکام نے بتایا کہ جمعرات تک غزہ کے 10,812 باشندے فضائی اور توپ خانے کے حملوں میں مارے گئے جن میں سے 40 فیصد بچے تھے۔ خوراک اور پانی جیسی بنیادی فراہمی ختم ہونے اور گولہ باری سے شہریوں کے بے گھر ہونے کے بعد ایک انسانی تباہی سامنے آئی ہے۔

اسرائیل کی فوج نے کہا ہے کہ اس کے پاس اس بات کے شواہد موجود ہیں کہ حماس الشفاء اور انڈونیشیئن ہسپتال جیسے دیگر ہسپتالوں کو غزہ کے زیرِ زمین فوجی کمان کے مقامات اور سرنگوں کے ایک وسیع جال تک داخلے کے راستوں کو چھپانے کے لیے استعمال کرتی ہے۔ اس نے کہا ہے کہ وہ عام شہریوں کو نشانہ نہیں بناتی اور اس نے کچھ زخمی فلسطینی شہریوں کو علاج کے لیے مصر جانے کی اجازت دی ہے۔

لیکن رہائشیوں کے مطابق وسطی غزہ شہر میں الشفاء کے تقریباً 1.2 کلومیٹر (3/4 میل) علاقے کے اندر ٹینکوں کے ساتھ اسرائیل کی فوجی پیش قدمی نے سوالات اٹھائے ہیں کہ اسرائیل طبی مراکز اور وہاں پناہ لینے والے بے گھر لوگوں کے تحفظ سے متعلق بین الاقوامی قوانین کی تشریح کیسے کرے گا۔

پناہ گزین کیمپوں، ایک طبی قافلے اور قریبی ہسپتالوں پر مہلک فضائی حملوں نے پہلے ہی اسرائیلی فوج کی بین الاقوامی قانون کی پاسداری کے حوالے سے اس کے کچھ مغربی اتحادیوں کے درمیان شدید بحث چھیڑ دی ہے۔

امریکی صدر جو بائیڈن نے جمعرات کو ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ اسرائیل کا فرض ہے کہ وہ "دہشت گردوں اور عام شہریوں میں فرق کرے اور بین الاقوامی قوانین کی مکمل پابندی کرے۔"

وائٹ ہاؤس نے جمعرات کو کہا کہ اسرائیل نے شمالی غزہ کے کچھ حصوں میں روزانہ چار گھنٹے کے لیے فوجی کارروائیوں کو روکنے پر اتفاق کیا ہے لیکن لڑائی میں کمی کے کوئی آثار نہیں تھے۔

وائٹ ہاؤس کی قومی سلامتی کے ترجمان جان کربی نے ان وقفوں کو انتہائی اہم ابتدائی اقدامات قرار دیا جو لوگوں کو خطرے سے بھاگنے کی اجازت دیں گے اور یرغمالیوں کی رہائی کے لیے استعمال کیے جا سکیں گے۔

لیکن اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو نے تجویز پیش کی کہ وقفے الگ الگ ہوں گے اور بار بار وقفوں کے منصوبے کی کوئی سرکاری تصدیق نہیں ہوئی۔

اس سوال پر کہ کیا لڑائی میں "وقفہ" ہوگا، نیتن یاہو نے فاکس نیوز چینل پر کہا: "نہیں۔ دشمن حماس اور اس کے دہشت گردوں کے خلاف لڑائی جاری ہے لیکن مخصوص مقامات پر یہاں یا وہاں چند گھنٹوں کے لیے ہم جنگ کے علاقے سے دور شہریوں کو محفوظ راستے کی سہولت فراہم کرنا چاہتے ہیں اور ہم ایسا کر رہے ہیں۔"

شمالی غزہ میں زمینی لڑائی میں کمی کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔ سڑکوں پر ہونے والی شدید لڑائیوں میں ہر فریق نے دوسرے کو بھاری جانی نقصان پہنچانے کی اطلاعات دیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں