فلسطین اسرائیل تنازع

فلسطینی عسکریت پسند ایک بوڑھی اسرائیلی مغویہ اور ایک نوجوان مغوی کو رہا کرنے پر تیار

دونوں مغویان اسلامی جہاد کے پاس ہیں، رہائی ان کی صحت کی وجہ سے ہو گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

فلسطینی مزاحمتی گروپ اسلامی جہاد نے دو اسرائیلی یرغمالیوں کو انسانی بنیادوں پر رہا کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ مسلح گروپ نے جمعرات کے روز ایک اسرائیلی بوڑھی مغویہ اور ایک نوجوان مغوی لڑکے کی ویڈیو بھی جاری کی ہے۔

اسلامی جہاد کی طرف سے اس موقع پر کہا گیا ہے کہ وہ ان دونوں کو رہا کرنے کو تیار ہے۔ البتہ اس رہائی کے لیے ضروری عمل کا انتظار ہے۔

اس رہائی کی وجہ ان کی صحت کے مسائل بتائے گئے ہیں۔ تاہم مزید کوئی تفصیل نہیں بتائی گئی ہے۔ غزہ کی پٹی جہاں مسلح گروپوں نے دو سو کے لگ بھگ اسرائیلیوں کو یرغمال بنا رکھا ہے اسرائیلی بمباری کے باعث ڈاکٹروں اور طبی عملے کی سہولت کے علاوہ ادویات تک کی شدید قلت کا سامنا ہے۔

اسلامی جہاد کی ریلز کردہ ویڈیو میں وہیل چئیر پر بیٹھی ایک بوڑھی اسرائیلی خاتون نے اپنے بچوں کو یاد کرتے ہوئے کہا' میں امید کرتی ہوں کہ میں آپ کو اگلے ہفتے میں دیکھ سکوں گی، ہم یہاں تندرست ہیں اور خوش ہیں، چاہتی ہوں کہ ہر ایک خوش رہے۔'

عسکریت پسندوں نے اپنے پاس قید اسرائیلیوں کے حوالے سے یہ تیسری ویڈیو جاری کی ہے۔ اس میں امکانی طور رہا ہونے والی بوڑھی مغویہ کو دکھایا گیا ہے۔ اس سے قبل عسکریت پسند چار مغویوں کو رہا کر چکے ہیں، جن میں دو امریکی تھے۔

خود اسرائیلی بمباری کی زد میں ہسپتال اور زخمیوں کو لانے والی ایمبولینس گاڑیاں بھی آ چکی ہیں۔ دوسری جانب اسرائیلی فوجی ترجمان رچرڈ ہیچٹ نے پہلی دو اسرائیلی خواتین کی حماس کے ہاتھوں عمر رسیدگی کی بنیاد کی گئی رہائی کی طرح اسلامی جہاد کے اس انسانی بنیادوں پر فیصلے کو بھی ' نفسیاتی دہشت گردی ' قرار دیا ہے۔

دو مزید یرغمالیوں کی انسانی بنیادوں پر امکانی رہائی کے بارے میں اسرائیلی فوج کے چیف ترجمان رئیر ایڈمرل ڈینیل ہگاری نے محتاط رہ کر بات کرنے کا تاثر دیا ہے۔ اسے زندگی کی علامت قرار دیا ۔

مگر انہوں نے کہا ' میں اس لمحے ان کی رہائی کے سوال کو نظر انداز کروں گا۔ اس بات کو زیربحث لا کر ہم وہ پہلے فرد بن جائیں گے جو مغویوں کے خاندانوں کوکچھ عملی طور پر ہونے سے پہلے ہی 'اپ ڈیٹ 'کریں گے۔ لیکن ہو سکتا ہے یہ یرغمال بنانے والوں کا نفسیاتی کھیل ہو۔'

اسلامی جہاد نامی گروپ جس نے انسانی بنیادوں پر ان دو مغویوں کو رہا کرنے کا عندیہ دیا ہے کہ پاس کم از کم 30 مغویوں کے ہونے کی اطلاع ہے۔ جبکہ مغویوں کی بڑی تعداد حماس کے پاس ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں