ایندھن ختم ہو جانے کے بعد غزہ کے الشفاء ہسپتال میں آپریشن معطل: وزارت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

غزہ کی وزارتِ صحت کے ترجمان نے بتایا کہ فلسطینی علاقے کے سب سے بڑے الشفاء ہسپتال کمپلیکس میں ایندھن ختم ہو جانے کے بعد ہفتے کے روز آپریشنز معطل کر دیئے گئے۔

حماس کے زیرِ قبضہ غزہ میں وزارتِ صحت کے ترجمان اشرف القدرہ نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا، "اس کے نتیجے میں ایک نوزائیدہ بچہ انکیوبیٹر کے اندر جان سے ہاتھ دھو بیٹھا جہاں 45 بچے ہیں۔"

اسرائیل کی فوج نے معاملے پر تبصرے کی درخواست کا فوری جواب نہیں دیا جس کے بارے میں رہائشی کہتے ہیں کہ وہ غزہ شہر میں اور اس کے اردگرد پوری رات حماس کے مسلح افراد سے لڑتی رہی جہاں ہسپتال واقع ہے۔

القدرہ نے ٹیلی فون پر کہا۔ "صورتِ حال اس سے بھی بدتر ہے جتنا کوئی تصور کر سکتا ہے۔ ہم الشفاء میڈیکل کمپلیکس کے اندر محصور ہیں اور قابض افواج نے اندر کی زیادہ تر عمارات کو نشانہ بنایا ہے۔"

اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ گذشتہ ماہ جنوبی اسرائیل میں حملہ کرنے والے حماس کے عسکریت پسندوں نے غزہ میں الشفاء ہسپتال اور دیگر کے نیچے فوجی کمان کے مراکز قائم کر رکھے ہیں جس سے وہ فوجی اہداف تصور کیے جاتے ہیں اور غیرمحفوظ ہو جاتے ہیں۔

حماس نے شہریوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنے کی تردید کی ہے اور صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ ہسپتالوں پر یا اس کے قریب اسرائیلی حملوں کی بڑھتی ہوئی تعداد سے مریضوں، طبی عملے اور ان کی عمارتوں کے قریب پناہ لینے والے ہزاروں مہاجرین کو خطرہ لاحق ہے۔

القدرہ نے کہا۔ "قابض افواج کمپلیکس کے اندر منتقل ہونے والے لوگوں پر فائرنگ کر رہی ہیں جس سے ہماری ایک سے دوسرے شعبے میں جانے کی صلاحیت محدود ہو رہی ہے۔ کچھ لوگوں نے ہسپتال سے نکلنے کی کوشش کی اور ان پر گولیاں چلائی گئیں۔" اور انہوں نے مزید کہا کہ بجلی اور انٹرنیٹ نہیں تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں