غزہ میں اسرائیل ’ارض محروقہ‘ کی پالیسی پر قائم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

غزہ کی پٹی پر اسرائیل کی سات اکتوبر سے جاری وحشیانہ بمباری کو ایک ماہ سے زائد عرصہ گذر گیا ہے۔ اس عرصے میں اب تک اسرائیلی فوج کی زمینی، فضائی اور بحری کارروائیوں میں 11 ہزار سے زائد فلسطینی جن میں چار ہزار سے زاید بچے ہیں لقمہ اجل بن چکے ہیں۔

غزہ میں اسرائیلی فوج کی جنگ کے ساتھ ساتھ اس کی مکمل ناکہ بندی کی وجہ سے ایک انسانی بحران پیدا ہوا جس کی وجہ سے غزہ کی 2.3 ملین آبادی کا سب سے بڑا حصہ بے گھر ہوا اور دسیوں ہزاروں افراد کھانے ، حفاظت اور پانی اور خوراک سے محروم ہوگئے۔

اسرائیل کی حکمت عملی اور حماس کو ختم کرنے کا آخری راستہ کیا ہوسکتا ہے اس پر مختلف آراء پائی جا رہی ہیں۔ تاہم اس جنگ کے پیچھے ایک طویل المیعاد اسرائیلی فوجی نظریہ لگتا ہے۔ یہ پالیسی اور نظریہ ’ارض محروقہ‘ کی ہوسکتا ہے جس کا مطلب ہے ’خاکستر سرزمین‘ جس میں زندگی اور زندہ رہنے کی تمام بنیادی ضروریات کو ختم کردیا جائے۔

"ارض محروقہ "

اس سلسلے میں سابق اسرائیلی کرنل جبرئیل سبونی نے تل ابیب یونیورسٹی میں انسٹی ٹیوٹ آف نیشنل سکیورٹی اسٹڈیز کے زیراہتمام ایک رپورٹ پیش کی ، جس میں انہوں نے کہا کہ لبنان ، شام یا غزہ سے مسلح اشتعال انگیزی کے بارے میں ضروری ردعمل "غیر پروپرٹینشنل" تھا۔

"واشنگٹن پوسٹ" کے مطابق حملوں کا مقصد ثانوی اہداف کو نشانہ بنانا ہے جس کا مقصد شہر کے مستقبل کے حوالے سے نتائج کونظرانداز کرکے اپنی ڈیٹرینس قائم کرنا ہے۔

ایسا لگتا ہے کہ اب اسرائیل اس حکمت عملی کو غزہ کی پٹی میں استعمال کررہا ہے جو "ارض محروقہ " کہلاتی ہے۔ فوجی امور اور اسلحہ خانے کے عرب کنسلٹنٹ ریاض قہوجی کے مطابق غزہ ہسپتالوں کو مبینہ طور پر فلسطینی دھڑوں کے رہ نماؤں کو نشانہ بناتے ہوئے نشانہ بنایا گیا ہے مگر اسرائیل کے پاس اس کا کوئی ثبت نہیں۔ یہ سب کچھ ارض محروقہ کی پالیسی کے تحت ہو رہا ہے۔

قہوجی کے مطابق ارض محروقہ جلی ہوئی زمین کا مطلب ہر طرح کی زندگی کی بنیادی ضروریات کو ختم کرنا ہے۔ اس میں حماس کے عناصر کے تعاقب کے بہانے ہسپتال بھی شامل ہیں۔

سابقہ اسرائیلی کرنل سبونی نے وضاحت کی کہ "اس حکمت عملی کو" جس میں اسرائیلی فوج کو فوری اور فیصلہ کن طاقت کے ساتھ دشمن کے اقدامات اور اس کے خطرے کا تدارک کرنے کی ضرورت ہے۔ "

Untitled ۳
Untitled ۳

انہوں نے مزید کہا کہ "اس طرح کے ردعمل کا مقصد اس حد تک دشمن کو نقصان پہنچانا اور مسلط کرنا ہے جس میں طویل اور مہنگے تعمیر نو کی ضرورت ہے"۔

ایسا لگتا تھا کہ یہ اصول 2008 کے آخر میں غزہ اور اسرائیل میں حماس کے مابین جھڑپوں کے ایک دور اور 2009 کے آغاز کے دوران اس پالیسی کو لاگو کیا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں