غزہ میں جنگ کے جھنم سے نکلنے والی امریکی خاندان کے وکیل کے چونکا دینے والے انکشافات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

غزہ کی پٹی سے امریکیوں سمیت 10 سے 15 قیدیوں کی رہائی کے لیے ابھی تک بات چیت جاری ہے۔ درجنوں غیر ملکی شہری اور دوہری شہریت کے حامل افراد چند روز قبل محصور غزہ کی پٹی کی رفح بارڈر کراسنگ سے نکل گئے۔

ان غیر ملکیوں میں OKAL خاندان بھی شامل ہے، جو ایک فلسطینی نژاد امریکی ہے۔اس میں ایک باپ، ایک بیوی اور ان کے بچے، یوسف شامل ہیں۔ رفح کراسنگ کے ذریعے 2 نومبر بروز منگل کو مذاکرات کامیاب ہونے کے بعد ان کا انخلاء ممکن ہوا۔

خاندان کے وکیل سامی نابلسی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے اس خارجی سفر کے بارے میں بات کی۔ انہوں نے جمعے کے روز کہا کہ "جمعرات 2 نومبر کی صبح سات بجے اوکل خاندان رفح کراسنگ پر پہنچے جب انہیں یہ اطلاع ملی کہ ان کا نام ان امریکی شہریوں کی فہرست میں شامل ہے جنہیں غزہ سے مصر منتقل کیا جائے گا"۔

انہوں نے وضاحت کی، "ساڑھے تین گھنٹے کے انتظار کے بعد خاندان قطر کی مدد سے نکلنے میں کامیاب ہوا۔ قطرنے مصر، اسرائیل اور حماس کے درمیان معاہدے پر کام کیا جب کہ ڈیل میں امریکا نے بھی در پردہ شرکت تھی"۔

"ثابت شدہ تیسرے" اصول کی بنیاد پر 2 نومبر کی تاریخ وہ تیسرا وعدہ تھا جو اوکل خاندان کو امریکی محکمہ خارجہ سے غزہ کی پٹی سے محفوظ اخراج کے لیے موصول ہوا تھا، جب کہ اس تاریخ سے پہلے دو بار ان سے غزہ کی پٹی چھوڑنے کا وعدہ کیا گیا تھا۔ انہیں غزہ سے مصر اور وہاں سے امریکا کے لیے روانہ ہونا تھا لیکن ایسا نہیں ہوا۔

ایک سابق لبنانی اہلکار کا کردار؟

اس تناظر میں نابلسی نے لبنانی جنرل سکیورٹی کے سابق ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل عباس ابراہیم کے کردار کا حوالہ دیا، جس نے اوکل خاندان اور دیگر امریکی شہریوں کو رفح کراسنگ کے ذریعے غزہ سے نکالنے کے لیے بات چیت کی تھی۔

ابراہیم جن کی مذاکرات کی ایک طویل تاریخ ہے نے چند روز قبل انکشاف کیا تھا کہ وہ حماس اور اسرائیل کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کے عمل میں ثالثی میں امریکی مذاکرات کار آموس ہوچسٹین کے ساتھ شریک تھے۔

اس کے علاوہ ان کی ایجنسی کے وکیل نے اوکل خاندان کے بارے میں بتایا کہ وہ غزہ کے اندر بمباری اور محاصرے کے نتیجے میں ایک ماہ سے زیادہ عرصے تک پھنسے رہے۔ نہوں نے کہا کہ"خاندان کے حالات انتہائی خطرناک اور سخت تھے۔ غزہ میں اب بھی موجود لوگوں اور تمام بے گناہ شہریوں کے حالات سنگین ہیں"۔

انہوں نے وضاحت کی کہ "بمباری اور اقتصادی ناکہ بندی کے نتیجے میں اوکل خاندان 40 دیگر افراد کے ساتھ ایک گھر کے اندر رہنے پر مجبور ہوا... وہ اپنے ایک سالہ بچے یوسف کے ساتھ فرش پر سوتے رہے۔ بمباری سے گھر کو بھی نہیں بچا گیا۔ اس گھر کے تقریباً 150 میٹر کے فاصلے پر حملہ کیا گیا جس کی وجہ سے اس مکان کی کھڑکیاں ٹوٹ گئیں اور دیواروں میں دراڑیں پڑ گئیں"۔

بنیادی سہولیات کا فقدان

غزہ کی پٹی کے تمام باشندوں کی طرح ہوکل خاندان کو پینے کے صاف پانی اور خوراک جیسے بنیادی ضروریات زندگی کی کمی کا سامنا کرنا پڑا۔

انہوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ خاندان کو حالیہ دنوں میں ایک سالہ بچے کا دودھ ختم ہونے کی وجہ سے مشکل اٹھانا پڑی۔ انہوں نے کہا کہ "ہر روز وہ اور ان کے ساتھ والے یہ سوچتے تھےکہ کیا ہم فضائی حملے سے مرجائیں یں گے، اگر ہم بمباری سے نہ مرے تو بھوک پیاس سے مر جائیں گے"۔

ڈیل کا پیپر

اس کے علاوہ فلسطینی نژاد امریکی وکیل کا خیال تھا کہ "غزہ سے امریکی شہریوں کو نکالنے کے معاملے پر کارروائی کرنے میں امریکا کی تاخیر نے انہیں بڑے مذاکرات میں ایک سودے بازی کی چِپ بنا دیا جس میں بہت سی چیزیں شامل ہیں جیسے کہ انسانی امداد، جنگ بندی،شہریوں اور زخمیوں کی طبی دیکھ بھال۔"

انہوں نے کہا کہ "میں محکمہ خارجہ کا شکر گزار ہوں کہ اس نے اوکل خاندان اور دیگر امریکی شہریوں کو غزہ سے بحفاظت نکالنے میں جو کردار ادا کیا، لیکن اس میں کافی وقت لگا۔ بہت سے ایسے امریکی اور ان کے رشتہ دار ہیں جو ابھی تک غزہ میں ہیں اور وہ بیرون ملک نہیں پہنچ سکے ہیں۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ "سینکڑوں امریکی ابھی تک غزہ کی پٹی سے نکلنے میں کامیاب نہیں ہو سکے ہیں۔ امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق تقریباً 400 امریکی شہریوں نے اپنے دستخط شدہ فارم کے ذریعے اور سیکڑوں دیگر نے وہاں سے نکلنے کا ارادہ ظاہر کیا۔ وہ امریکی شہریوں کے براہ راست رشتہ دار ہیں۔ انہوں نے بھی اپنے نام درج کرائے ہیں اور وہ غزہ سے نکلنا چاہتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں