غزہ میں جو کچھ ہو رہا وہ ایک نئی تباہی ہے: مشیر فلسطینی صدر

1948 کا نکبہ یا 1967 کی نقل مکانی قبول نہیں کرینگے، غزہ کی پٹی فلسطینی ریاست کا اٹوٹ حصہ: فلسطینی صدر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسرائیل نے سات اکتوبر کو جنگ شروع ہونے کے بعد 27 اکتوبر سے غزہ کے اندر داخل ہوکر کارروائیاں بھی شروع کر رکھی ہیں۔ غزہ میں اب تک 11078 فلسطینیوں کو شہید کردیا گیا ہے۔ غزہ کے نصف مکانات تباہ ہوگئے ہیں۔ اسی تناظر میں مغربی کنارے میں فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس کے مشیر محمود الحبش نے کہا ہے کہ "غزہ میں اب جو کچھ ہو رہا ہے وہ ایک نئی تباہی ہے۔ "

الحبش نے جمعہ کی شام ’’العربیہ‘‘ کو دیے گئے بیانات میں کہا کہ "اسرائیل اب غزہ کی پٹی کے مکینوں کو بے گھر کرنے کے نیتن یاہو کے منصوبے پر عمل پیرا ہے ۔ ہم نہیں چاہتے کہ غزہ کے باشندے پٹی سے نکل جائیں۔"

انہوں نے واضح کیا کہ "ہم اب جارحیت کو روکنے اور غزہ کے لوگوں کی نقل مکانی کو روکنے پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں۔ صرف امریکہ ہی غزہ میں جنگ روک سکتا ہے۔"

یاد رہے اس سے قبل جمعہ کو فلسطینی صدر محمود عباس نے مقبوضہ مشرقی القدس سمیت غزہ یا مغربی کنارے سے باہر فلسطینیوں کی نقل مکانی کے خلاف خبردار کرتے ہوئے جنگ کو فوری طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ محمود عباس نے "مشرقی القدس اور غزہ کی پٹی سمیت مقبوضہ مغربی کنارے سے فلسطینیوں کی نقل مکانی کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ہم 1948 کے نکبہ یا 1967 کی نقل مکانی کو قبول نہیں کریں گے۔

محمود عباس نے یہ بھی کہا کہ ہم غزہ کی پٹی میں اپنے لوگوں کو نہیں چھوڑیں گے، غزہ کی پٹی فلسطین کی ریاست کا اٹوٹ حصہ ہے۔ ہم مغرب دونوں کے لیے ایک جامع سیاسی حل کے فریم ورک کے اندر اپنی پوری ذمہ داریاں ادا کریں گے۔

سات اکتوبر کو شروع اس جنگ میں 1400 سے زیادہ اسرائیلی ہلاک ہو چکے ہیں۔ اسرائیلی حکام کے مطابق حماس نے 240 اسرائیلیوں اور غیر ملکیوں کو یرغمال بھی بنایا۔ 27 اکتوبر کو اسرائیل نے غزہ میں زمینی کارروائی بھی شروع کر رکھی ہے۔

جنگ کے 35 ویں روز بھی صہیونی جارحیت جاری رہی۔ فلسطینی وزارت صحت کے مطابق اب تک 11078 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔ شہدا میں 4506 بچے اور 3027 خواتین شامل ہیں۔ مغربی کنارے میں جنگ کے آغاز سے اب تک 35 دنوں میں 180 فلسطینیوں کو شہید کیا جا چکا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں