فلسطینیوں کے خلاف جرائم کا ذمہ دار اسرائیل ہے: سعودی ولی عہد

سعودی عرب کے ولی شہد شہزادہ محمد بن سلمان نے فوجی آپریشن فوری طور پر ختم کرنے اور قیدیوں کی رہائی کا بھی مطالبہ کیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے مملکت کے غزہ میں جنگ بندی کے مطالبے کا اعادہ کرتے ہوئے اسرائیل کو شہریوں کے خلاف جرائم کا ذمہ دار قرار دیا اور کہا اسرائیل کی وحشیانہ جنگ کو روکنا ضروری ہے۔ اسرائیلی جنگ نے ہزاروں فلسطینی شہریوں کی جان لے لی ہے۔

شہزادہ محمد نے 'غزہ میں ہونے والی انسانی تباہی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا یہ سلامتی کونسل اور بین الاقوامی برادری کی ناکامی کا اظہار ہے۔‘

ریاض میں ہونے والے غیر معمولی عرب اسلامی سربراہی کانفرنس سے اپنے افتتاحی خطاب میں انہوں نے کہا 'خطے میں استحکام لانے کے لیے واحد راستہ قبضے اور آبادکاری کی پالیسی کو ختم کرتے ہوئے فلسطینیوں کو ان کے جائز حق کے طور پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام ہے۔'

ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان عرب اور اسلامی ممالک کے سربراہوں کی ایک غیر معمولی کانفرنس کے آغاز میں خطاب کر رہے تھے۔ ولی عہد نے اس موقع پر فوری جنگ بندی کا بھی مطالبہ کیا اور غزہ کے لیے انسانی بنیادوں پر ریلیف کا سامان فراہم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

شہزادہ محمد بن سلمان نے مسلم دنیا کے دو اہم ترین سربراہی فورمز کے مشترکہ اجلاس سے اپنے خطاب میں اسرائیل کے بارے میں کہا 'اسرائیلی قابض حکام غزہ میں جرائم کے ارتکاب کے ذمہ دار ہیں۔

اسرائیل کو بین لاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا' مملکت اس ظالمانہ جنگ کی مذمت کرتی ، جس جنگ نے ہزاروں شہریوں کی جان لے لی ہے۔ '

سعودی ولی عہد نے عرب اور اسلامی سربراہ کانفرنس میں شریک سربراہان کو متوجہ کرتے ہوئے کہا 'ہمیں لازماً غزہ کا محاصرہ ختم کرانے اور غزہ کے مکینوں کو امداد بہم پہنچانے کے لیے مل کر کام کرنا ہو گا۔'

شہزادہ محمد بن سلمان نے خطے میں استحکام لانے کے لیے واحد حل اسرائیل کے فلسطین پر قبضے اور آبادکاری پالیسی کا خاتمہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا 'اس مقصد کے لیے فلسطینی عوام کو ان کا جائز اور قانونی حق یعنی ان کی آزاد فلسطینی ریاست کا دیا جانا ضروری ہے۔'

عرب اسلامی مشترکہ سربراہ کانفرنس میں خلیجی ممالک کے سربراہان، پوری مسلم دنیا سے سربراہان شریک ہیں۔ سعودی میزبانی میں ہونے والی یہ غیر معمولی سربراہ کانفرنس غزہ میں جنگ کے طول پکڑ جانے سے پیدا شدہ بحران پر غور کے لیے بلائی گئی ہے۔

اب تک اسرائیلی بمباری سے غزہ میں 11000 سے زائد شہری ہلاک ہو چکے ہیں جن میں ساڑھے چار ہزار کے لگ بھگ بچے بھی شامل ہیں۔ جبکہ فلسطینی خواتین بھی ہزاروں کی تعداد میں شہید ہو چکی ہیں۔

زیر محاصرہ غزہ میں اسرائیل نے مسلسل بمباری کر کے نہ صرف رہائشی عمارات اور سول انفراسٹرکچر تباہ نہیں کیا بلکہ ہسپتال، تعلیمی ادارے اور مساجد بھی اس بمباری کے نشانے پررکھے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں