مشرق وسطیٰ

یورپ غزہ پر حکومت کرنے کے لیے رام اللہ کے ساتھ تعاون کرے گا: سفارت کار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

اگرچہ غزہ کی پٹی کے مستقبل اور جنگ کے بعد حکومت یا انتظامیہ کے معاملے پر اب بھی غیر یقینی صورتحال کے بادل چھائے ہوئے ہیں۔ ایسے میں ایک یورپی سفارت کار نے جنگ کے بعد غزہ کی پٹی پر حکومت کرنے کے حوالے سے یورپی یونین کی فلسطینی اتھارٹی کے ساتھ تعاون کا اشارہ دیا ہے۔

سفارت کار نے جمعہ کے روز العربیہ اورالحدث کو بتایا کہ فلسطینی اتھارٹی ہی یورپی یونین کے لیے غزہ کا انتظام کرنے کا واحد قانونی ادارہ ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یورپی یونین غزہ جنگ کے تناظر میں سکیورٹی معاملات پر فلسطینی اتھارٹی کا ساتھ دینے کے لیے تیار ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ غزہ میں تباہی کے بعد بحالی اور تعمیر نو کے لیے اقوام متحدہ کی نگرانی میں عبوری انتظامیہ کی ضرورت ہو سکتی ہے۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ غزہ میں جنگ بندی کے معاملے پر یورپی یونین کے ممالک کی صفوں میں تقسیم ہے۔

سفارت کار نے کہا کہ یورپی یونین کا ایران کے ساتھ رابطہ ہی واحد راستہ ہے جس سے خطے میں تنازعات کو پھیلنے سے روکا جا سکتا ہے۔

غزہ کے انتظام کے لیے بین الاقوامی اتحاد کی تشکیل

31 اکتوبر کو العربیہ اور الحدث کو ملنے والی ایک دستاویز میں انکشاف کیا گیا ہے کہ کئی یورپی ممالک نے جنگ کے بعد غزہ کی پٹی کو بین الاقوامی نگرانی میں دینے کے آپشن پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے اقوام متحدہ کے تعاون سے اسے منظم کرنے کے لیے ایک بین الاقوامی اتحاد کے قیام کی تجویز پیش کی۔

جرمنی کی طرف سے تیار کردہ اور یورپی ممالک میں تقسیم کی گئی اس دستاویز میں تجویز کیا گیا تھا کہ جنگ کے بعد غزہ کو محفوظ بنانے کی ذمہ داری ایک بین الاقوامی اتحاد پر عائد کی جائے۔

اس نے کہا کہ یہ اتحاد سرنگوں کے نظام کو بھی ختم کر دے گا اور غزہ میں ہتھیاروں کی اسمگلنگ روکے گا۔

حماس کی معاونت کے ذرائع کی بندش

مزید برآں دستاویز میں اسرائیل کی فوجی ذرائع سے حماس کو ختم کرنے کی صلاحیت پر بھی شبہ ظاہر کیا گیا ہے۔

اس نے حماس کی مالی اور سیاسی حمایت کے ذرائع کو خشک کرنے کا مطالبہ کیا۔

اس نے یہ بھی خبردار کیا کہ درمیانی مدت میں غزہ کے استحکام کی ضمانت صرف امن عمل کو دوبارہ شروع کرنے سے دی جا سکتی ہے۔

واشنگٹن نے بھی بارہا اشارہ دیا کہ اس کے پاس غزہ کے مستقبل کے بارے میں کئی تجاویز زیر غور ہیں۔

مغربی ممالک کی میز پر ساحلی فلسطینی پٹی کے مستقبل کے لیے بہت سے آپشن رکھے گئے تھے۔ بائیس لاکھ آبادی والے اس علاقے کی نگرانی کے لیے عالمی امن فوج اور عرب ممالک کی افواج کی تعیناتی کی تجاویز بھی شامل ہیں۔

مصری حکام نے گذشتہ دو دنوں کے دوران یہ انکشاف بھی کیا کہ سی آئی اے کے ڈائریکٹر ولیم برنز نے مصری صدر عبدالفتاح السیسی کو ایک تجویز پیش کی کہ مصر غزہ میں سکیورٹی کا انتظام کرے تاکہ فلسطینی اتھارٹی ذمہ داری سنبھال سکے، لیکن السیسی نے یہ تجویز مسترد کر دی۔

اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے جمعرات کو اشارہ کیا کہ ان کا ملک غزہ کی پٹی پر قبضہ کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا، بلکہ کسی بھی سیکورٹی ایمرجنسی کو روکنے کے قابل ایک عارضی فورس کی موجودگی کو یقینی بنانا چاہتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں