مسلسل اسرائیلی بمباری نے غزہ کو کھنڈرات میں تبدیل کر دیا

اسرائیلی محاصرے میں گھرے فلسطینیوں کی ' چاہ یوسف' سے پکار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

غزہ شہر ایک ماہ اور تقریباً ایک ہفتے کی اسرائیلی بمباری سے بدترین انسانی تباہی اور شہر کے کھنڈر میں تبدیل ہو جانے کا منظر پیش کر رہاہے۔ بظاہر غزہ اور غزہ کے مکین فلسطینیوں کو بچانے کے لیے اپنے اور پرائے سب متحرک ہیں۔

عالمی اداروں، تنظیموں اور امدادی تنظیمیوں کے علاوہ محکموں کے اعلیٰ سطح کے بہت سے اجلاس ہو چکے اور بہت سے ہو رہے ہیں۔ لیکن غزہ کی حالت کیا ہے اور غزہ کے فلسطینی شہریوں پر کیا گزر رہی ہے وہ اس رپورٹ میں انہی کے الفاظ میں بیان کی گئی ہے۔

غزہ جو اب ملبے کا ڈھیر، تاریکی میں ڈوبا ہو اور بھوک کے کنویں گرا ہوا شہر بمابری کی مسلسل زد میں ایک شہر ہے، 'چاہ یوسف' سے برادارن یوسف کی طرف بار بار دیکھ رہا ہے۔ آئیں اس کے برباد ہو چکے مکینیوں کی سنتے ہیں۔

یہ غزہ کے کھنڈروں میں اپنے گھر کی تباہی کو بھول چکے جواد حرودہ ہیں۔ کہہ رہے ہیں 'میرا خیال نہیں تھا کہ میں اور میرے بچے بمباری اور بندوقوں کی تباہ کن گھن گرج کے اس ماحول میں کسی جانی یا جسمانی نقصان کے بغیر نکل سکیں گے۔ ہر طرف تباہی کے بعد پھیلے اندھیرے میں رات کے وقت بمباری سے نکلنے والے اور بھڑکنے والے ہوتے تھے یا پھر الشفا ہسپتال میں روشنی نظر اتی تھی۔'

ہمارا اپنے پناہ گزین کیمپ 'شاتی' سے نکلنا بجائے خود ہمارے لیے ایک المیہ ہے۔' جواد نے تباہ شدہ غزہ کے اس سارے منظر کو آنکھوں میں سمیٹتے ہوئے کہا جسے اس نے 'شاتی' سے نکلنے سے یہاں پہنچنے تک ہر جگہ دیکھا۔

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ وہ غزہ کے قلب میں پہنچ چکی ہے۔ وہ دل جو اسرائیلی بمباری سے پہلے خوب پر رونق تھا۔ ہر طرف لوگ ہی لوگ، خریداری کرتے شہری۔ گاڑیوں کی آمدورفت، انسانوں اور ٹریفک دونوں کا اژدھام ۔

لیکن 'الجزیرہ ' کے تجربہ کار نمائندے وائل الدہدوہ کا کہنا ہے 'اب صورت حال مختلف ہو چکی۔ بمباری نے غزہ کے ہر علاقے کو تباہ کر دیا ہے۔ اب کئی جگہوں اسرائیلی حملہ آوروں کے پرتصادم ہوتے ہیں۔ اس لیے میں نے بھی غزہ شہر کو چھوڑ دیا ہے۔'

پانچ ہفتوں سے جاری بمباری کے دوران سکولوں، ہسپتالوں اور اس طرح کی قدر محفوظ لگنے والی عمارتوں میں منتقل ہو جانے والے شہریوں نے بھی بالآخر جنوبی غزہ کی طرف نقل مکانی شروع کر دی۔ مگر یہ سفر کھنڈروں سے خوف تک کا سفر رہا۔ کہ امن تو راستوں میں تھا نہ یہاں جنوبی غزہ میں۔

ابھی کل ہی جنوبی غزہ کے لیے نکلنے والے کئی فلسطینیوں کو راستے میں بمباری کر کے ہلاک کر دیا گیا ہے۔ ان نقل مکانی کرنے والوں میں ننگے پاوں چلنے والے بچے اور بچیاں بھی شامل ہیں جن کے پاؤں کئی کلو میٹر پیدل چل چل کر زخمی ہیں۔ مگر اس کے باوجود خوف کی فضا سے نجات ابھی دور ہے۔

اگرچہ اب تک 'انروا ' کی رپورٹ کے مطابق 16 لاکھ فلسطینی غزہ کے اندر ہی اندر اپنے گھروں سے محروم اور بے گھر ہو چکے ہیں۔ کل آبادی کا تقریباً دو تہائی حصہ ۔'

'شاتی' پناہ گزین کیمپ سے نکلنے والے ایک فلسطینی منیر الراعی کی بھی سنیے 'ہمارا پورا علاقہ اسرائیلی کی مسلسل بمباری کی وجہ سے خالی ہو چکا ہے۔ گھر اپنے ہی مکنیوں پر ملبہ بن کر کر ان کے اوپر گرتے رہے ۔'

'اس دوران بچے، عورتیں سب ملبے کے ڈھیروں کا حصہ بنتے رہے۔ وہاں اب کوئی نہیں بچا، اگر کوئی بچ گیا تو وہ وہاں سے نکلنے پر مجبور ہو گیا۔'

اس نقل مکانی کرنے والے منیر الراعی نے اس دوران ایک ننھے بچے کو کندھوں پر سوار کر رکھا تھا اور اسی کو بچا لانا بڑی کامیابی سمجھ رہا تھا۔

محمد الطالبانی نے غزہ کی بمباری سے نکلنے کی کوشش کی تو اس کے ساتھ اس کا ایک بچہ تھا، وہ کہہ رہا تھا ' غزہ میں کچھ نہیں رہا۔ بنیادی ضرورتوں میں شامل پانی اور خوراک تک موجود نہیں۔'

اقوام متحدہ کے ادارے ' اوچھا ' نے جمعرات کو بتایا تھا 'شمالی غزہ میں اب کوئی بیکری کام نہیں کر رہی۔ کہ لوگ نان ہی خرید سکیں۔ سب ختم ہو گیا ہے۔' ' اوچھا ' کے مطابق اسرائیلی بمباری نے شہر کی سب سے بڑی بیکری کو بھی تباہ کرنے کے لیے اس کے ' سولر پینلز ' کو نشانہ بنایا۔ تاکہ فلسطینیوں کو نان فراہمی کا یہ سلسلہ رک جائے۔' اس صورت حال کو داؤد نامی فلسطینی نے کہا ' کھانے کو کچھ نہیں ہے، کیا اب ہمیں بھوکے مرنا ہو گا؟

قوام متحدہ کے اس ادارے ' اوچھا ' کا ہی کہنا ہے 'غزہ کے لوگ کچے پیاز کھانے کو ہی پوری خوراک سمجھنے لگے ہیں۔ ایسی رپورٹس ہیں کہ پیاز ہی ان کی کل خوراک بنا رہا۔'

ایک غزہ کا رہائشی آسمان کی طرف ہاتھ اٹھا کر پکار پکار کہہ رہا تھا 'بہت ہو گئی اب ہم سے یہ سب برداشت نہیں ہو رہا ، اے ہمارے مالک، اے رب العالمین، اے خیرالرازقین ۔ اے خیرالوارثین۔ ہمیں تنہا نہ چھوڑ۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں