آگ میں گھرے خاندان کوبچانے والا سعودی نوجوان جسے سوشل میڈیا پر ’ہیرو‘ کادرجہ دیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سوشل میڈیا پر سعودی عرب کے ایک نوجوان کی ویڈیو وائرل ہو رہی ہے جس نے رہائشی عمارت کی تیسری منزل پرموجود خاندان کو اپنی جان پر کھیل کر بچایا۔ نوجوان کی اس جرات مندانہ کوشش کو سوشل میڈیا پر سراہتے ہوئے اسے ’ہیرو‘ قرار دیا جا رہا ہے۔

ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ سعودی نوجوان آگ کے شعلوں میں گھرے اپنے خاندان کے افراد کو جن میں بچے بھی شامل ہیں کو دھوئیں سے باہر نکال رہا ہے۔

بہادرسعودی نوجوان کی شناخت "معیض محمد آل معجبہ الیامی" کے نام سے ہوئی ہے۔ اسے ایک ویڈیو کلپ میں دیکھا جا سکتا ہے جب وہ دروازہ توڑ کر گھر میں زبردستی داخل ہوا اور چھوٹے بچوں کو لے کر دھوئیں سے باہر نکلا۔ بار بار دھوئیں کے اندر سے گذرنے کی وجہ سے معیض کوبھی سانس کی تکلیف کا سامنا کرنا پڑا جس کے بعد سے ہسپتال لے جایا گیا مگر اب وہ روبہ صحت ہے۔

سعودی سوشل میڈیا صارفین نے معیض کی جرات مندانہ کوشش کو سراہتے ہوئے اسے "خدا آپ کا چہرہ روشن کرے" جیسے دعائیہ کلمات سے نوازا ہے۔

سب نے معیض کی جلد صحت یابی کی دعا کی ہے اور اس کے خاندان کو خطرے سے باہر نکلنے پر مبارک باد پیش کی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کو انٹرویو دیتے ہوئے الیامی ہیرو نے کہا کہ ’آگ اس عمارت کی تیسری منزل پر لگی جس میں میں رہتا ہوں۔ اس وقت میں اپنے کام پر جانے کی تیاری کر رہا تھا جہاں میں دمام میں کنگ عبدالعزیز سی پورٹ پر بارڈر گارڈز کی ملازمت کرتا ہوں۔ جب میں نے آگ دیکھی تو میں عمارت میں داخل ہوا اور مکینوں کو دوسری منزل سے باہر نکالا۔ میں نے تیسری منزل پر جانے کی ویڈیو ریکارڈ کی تاکہ میرے خلاف کوئی کیس نہ بن جائے۔ مجھے پتا چلا کہ گھر کے اندر ایک خاتون اپنے چار بچوں سمیت موجود ہے‘‘۔

اس نے کہا کہ میں اپنے آپ پر قابو نہ رکھ سکا اور میرے اردگرد موجود لوگوں نے مجھے سول ڈیفنس کے آنے تک انتظار کرنے کا مشورہ دیا۔ اگرچہ میں دمہ کا شکار ہوں، میں گھر میں داخل ہوا، ماں اور اس کے بچوں کو بچایا، اور انہیں اپنی گاڑی میں لےگیا۔ عمارت میں لوگوں سے خالی ہونے کا یقین کرنے کے لیے واپس آیا پھر میں بے ہوش ہو گیا اور مجھے ہسپتال لے جایا گیا، سول ڈیفنس نے پہنچ کر آگ پر قابو پالیا، میرے جسم کا دایا حصہ جھلس گیا اور گرنے سے دائیں ٹانگ، اور بائیں پاؤں میں موچ آگئی‘‘۔

اس نے مزید کہا کہ الحمد للہ، میرا علاج ہوا اور مجھے اس خاندان کے سربراہ کی طرف سے فون آیا جس نے ماں اور اس کے چار بچوں کی جان بچانے پر میرا شکریہ ادا کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں