فلسطین اسرائیل تنازع

الشفا ہسپتال سے نومولود بچوں کو نسبتاً محفوظ ہسپتال لے جانے کی اسرائیلی پیشکش

بجلی کی بندش سے دو نومولود جاں بحق، 37 مزید خطرے میں ہیں۔ ہسپتال انتظامیہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

اسرائیلی فوج نے ہفتے کے روز الشفا ہسپتال کے شعبہ اطفال کو خبردار کیا ہے کہ اسرائیلی فوج نومولود بچوں کو ہسپتال سے نکالنے میں مدد دے سکتی ہے۔ الشفا غزہ کا سب سے بڑا ہسپتال ہے۔ ہفتے کے روز اس کے پاس بھی اپنی معمولات کو جاری رکھنے کے لیے ایندھن ختم ہونے کی اطلاعات آچکی ہیں۔ اسرائیلی فوج نے غزہ کا بد ترین محاصرہ کر کے ہسپتالوں کے لیے ایندھن لانے کو معطل کر رکھا ہے۔

اس وجہ سے وہ ہسپتال جو اسرائیلی فوج کی مسلسل اور ٹارگٹڈ بمباری سے بچ گئے تھے وہ اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے سے قاصر ہو چکے ہیں۔

الشفا ہسپتال بھی اسے درجے کو پہنچ گیا ہے۔ ہفتے کے روز الشفا ہسپتال کی انتظامیہ سے کہا گیا ہے کہ ' اتوار کے روز اسرائیلی فوج پیڈریاٹرک ڈیپارٹمنٹ سے نکال کر ایک نسبتاً محفوظ ہسپتال میں منتقل کر نے میں مدد دے سکتے ہیں۔ یہ بات فوجی ترجمان ڈینئیل ہگاری نے ایک ٹی وی بریفنگ میں کہی۔

طبی عملے کا کہنا ہے کہ 'قبل از وقت پیدا ہونے والے بچوں کی ہلاکت اس وقت ہو گئی تھی جب ہسپتال میں انتہائی نگہداشت یونٹ کو بجلی کی ترسیل رک گئی تھی۔ طبی عملے اور انسانی حقوق کے اداروں کے مطابق اب ایسے ہی مزید 37 نومولود بچوں کی زندگیاں خطرے میں ہیں۔ '

ہسپتال میں ایک متعلقہ سرجن محمد عبید نے اس امر کی تصدیق کی ہے ، مزید یہ بھی بتایا ہے کہ 'وینٹی لیٹر پر پڑا ایک بڑا مریض بھی اسی وجہ سے چل بسا ہے کہ بجلی نہ ہونے کی وجہ سے وینٹی لیٹر نے کام کرنا چھوڑ دیا تھا۔ '

سرجن نے کہا' سماجی خدمت سے وابستہ تنظیم داکٹرز ود آؤٹ بارڈرز' کے ذریعے انہوں نے ایک آڈیو پیغام میں کہا 'ہمارے پاس ایسے 600 مریض ہیں جن کی زندگیاں خطرے میں ہیں۔ لیکن ہمیں اس بارے میں کسی کو گارنٹی دینا ہو گی کہ وہ مریضوں کو پوری حفاظت اور ضروری لوازمات کے ساتھ نکال سکتے ہیں۔ '

واضح رہے الشفا ہسپتال غزہ پر جزوی اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں بھر پور انداز کی بمباری کئی بار ہو چکی ہے۔ اب بھی اس سے متصل علاقے میں بمباری، اور فائرگ کا سلسلہ جاری ہے۔ اسی بمباری سے بچنے کے لیے علاقے کے لوگ ہسپتال کے احاطے میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں