فلسطین اسرائیل تنازع

سعودی عرب کی اسرائیل-حماس کی جنگ پر دنیا کے ردِعمل میں 'دوہرے معیارات' پر تنقید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

سعودی عرب نے ہفتے کے روز اسرائیل-حماس جنگ کے حوالے سے دنیا کے ردعمل میں "دوہرے معیار" کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں پر رعایت مل رہی ہے۔

سعودی وزیرِ خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے ریاض میں غیر معمولی اسلامی-عرب سربراہی اجلاس کے بعد ایک پریس کانفرنس میں کہا، "ہم دوہرے معیارات کو دیکھ رہے ہیں اور اس کی بنیاد پر بین الاقوامی نظاموں کی ساکھ کا ازسرِنو جائزہ لے رہے ہیں۔"

انہوں نے مزید کہا: "اگر ان بنیادوں کے ساتھ سب کو پابند کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے تو ان کو متحد کرنے والی بنیادیں کہنا مشکل ہے۔"

سربراہی اجلاس میں مملکت اور دیگر مسلم ممالک نے غزہ میں فوجی کارروائیوں کو فوری طور پر بند کرنے کا مطالبہ کیا اور اسرائیل کی طرف سے اپنے حقِ دفاع کے لیے فلسطینیوں کے خلاف اقدامات کے جواز کو مسترد کر دیا۔

عرب نیوز کے سوال پر کہ کیا اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل پر کسی عرب یا اسلامی بلاک کی طرف سے دباؤ ڈالنے کی کوئی امید ہے یا اقوامِ متحدہ کا ادارہ "فلسطین کو ناکام کرنا جاری رکھے گا،" شہزادہ فیصل نے کہا، "عرب لیگ نے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ایک قرارداد کی سرپرستی کی جو بہت مضبوط پیغام کے ساتھ سامنے آئی۔"

انہوں نے مزید کہا، "بلاک نے نشاندہی کی کہ "اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل اپنی ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام رہی اور یہ ساری صورتِ حال کو اور بین الاقوامی سلامتی کے ڈھانچے میں اصلاحات کی ضرورت کو نمایاں کرتا ہے۔"

شہزادہ فیصل نے کہا کہ سلامتی کونسل نے ظاہر کیا ہے کہ "وہ عالمی برادری کی توقعات پر پورا نہیں اتر سکتی اور اس میں اصلاحات انتہائی ضروری ہیں۔"

سعودی مملکت کے اعلیٰ سفارت کار نے کہا۔ عالمی سلامتی کے ڈھانچے کا جائزہ لیا جا رہا ہے "کیونکہ اگر بین الاقوامی برادری اسرائیل کا محاسبہ نہیں کر سکتی تو اس سے ہم میں سے کئی لوگوں کے ذہن میں خاصے شکوک و شبہات پیدا ہوں گے کہ آیا قائم کردہ بین الاقوامی نظام کے پیمانے واقعی فعال ہیں اور کام کر رہے ہیں یا نہیں۔"

حتمی اعلامیے کے مطابق سربراہی اجلاس نے قبل ازیں بین الاقوامی فوجداری عدالت پر زور دیا کہ وہ فلسطینی علاقوں میں "جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم جو اسرائیل کر رہا ہے" کی تحقیقات کرے۔

ایرانی صدر ابراہیم رئیسی، ترک صدر رجب طیب اردوان، قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی اور شام کے صدر بشار اسد جن کا اس سال عرب لیگ میں دوبارہ استقبال کیا گیا تھا، ان سمیت درجنوں رہنماؤں نے اجلاس میں شرکت کی۔

ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے مملکت کی طرف سے "فلسطین میں ہمارے بھائیوں کے خلاف اس وحشیانہ جنگ کی مذمت اور واضح طور پر مسترد کرنے" کی تصدیق کی۔

سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا: "ہمیں ایک انسانی تباہی کا سامنا ہے جو بین الاقوامی قوانین کی صریح اسرائیلی خلاف ورزیوں کو روکنے میں سلامتی کونسل اور عالمی برادری کی ناکامی کو ثابت کرتا ہے۔"

صدر محمود عباس نے کہا فلسطینیوں کو "نسل کشی کی جنگ" کا سامنا ہے اور امریکہ پر زور دیا کہ وہ اسرائیلی "جارحیت" بند کرے۔

7 اکتوبر کو حماس کے جنگجوؤں کی اسرائیل میں دراندازی کے بعد سے شرقِ اوسط کی صورتِ حال خطرے کے دہانے پر ہے۔

فلسطینی حکام کے مطابق جمعہ تک غزہ پر اسرائیل کے حملے میں 11,078 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں سے 40 فیصد بچے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں