فلسطینی صدر کاغزہ میں اسرائیلی بمباری اور خون خرابہ روکنےکے لیے فوری اقدامات کامطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

فلسطینی ایوان صدر نے اتوار کے روز کہا ہے کہ غزہ فلسطینی علاقوں کا اٹوٹ حصہ ہے اور اسرائیل کی اسے الگ کرنے کی کوششیں ناکام ہوں گی۔ غزہ میں اسرائیل اور مسلح فلسطینی دھڑوں کے درمیان جنگ اپنے 37ویں دن میں جاری ہے جس کے نتیجے میں علاقے میں بدترین انسانی المیہ رونما ہوچکا ہے۔

فلسطینی صدرکے ترجمان نبیل ابو ردینا نے کہا کہ فلسطینی ایوان صدر نے واشنگٹن سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل کی جانب سے شروع کی گئی تباہ کن جنگ کے خلاف فوری کارروائی کرے۔ انہوں نے مزید کہا کہ "کوئی بھی بین الاقوامی کوششیں جو اسرائیلی قبضے کو ختم کرنے کا باعث نہیں بنتی ہیں بیکار ہوں گی"۔

درایں اثناء فلسطینی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نوآبادیاتی منصوبوں کو منظور کر رہے ہیں، جس کا مقصد فلسطینی کاز کو ختم کرنا ہے۔ وزارت خارجہ نے ایک بیان میں ہم غزہ کی جنگ کو مغربی کنارے سے الگ کرنے کے لیے اسرائیلی ظالمانہ کارروائیوں کو مسترد کرتے ہیں۔

خیال رہے کہ7 اکتوبر کو حماس اور دیگر دھڑوں کی طرف سے غزہ کی پٹی سے ملحقہ اسرائیلی قصبوں اور کیمپوں پر اچانک حملے شروع کیے جانے کے بعد سے اسرائیل غزہ کی پٹی میں اپنے حملے اور زمینی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔

حماس کی وزارت صحت کے مطابق غزہ پر اسرائیلی بمباری میں 4506 سے زائد بچوں سمیت 11,078 سے زائد افراد شہید ہوچکے ہیں۔

شمالی غزہ کی پٹی میں لڑائیوں کی شدت کے باعث حالیہ دنوں میں اسرائیلی فوج کی جانب سے جنوب میں پناہ لینے کی وارننگ کے بعد دسیوں ہزار فلسطینی بے گھر ہو چکے ہیں۔

غزہ کی پٹی کو ایک ماہ سے زائد عرصے تک مسلسل بمباری اور مکمل محاصرے کا نشانہ بنانے کے باعث وہاں کی انسانی صورتحال تباہ کن ہوچکی ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق اس کے 2.4 ملین باشندوں میں سے 1.6 ملین بے گھر ہو چکے ہیں۔

اسرائیل کی جانب سے 9 اکتوبر سے مسلط کردہ ناکہ بندی کی وجہ سے غزہ کی پٹی پانی، بجلی، خوراک اور ادویات سے محروم ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں