فلسطین اسرائیل تنازع

انسانی حقوق کی پرچارک دنیا نے ہمیں مایوس کیا،غزہ سے نقل مکانی کرنے والوں کی ایک کہانی

'اے اللہ ہمارے بچوں کے قاتلوں سے بدلے کا سامان کر دے۔ '

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

مسلسل بمباری سے تباہ کر دیے گئے غزہ سے پناہ کے لیے نکلنے والے فلسطینی اب ملبے کے شہر اور بچوں کے بہت بڑے قبرستان سے نکل رہے ہیں۔ ان میں سے ہر ایک کی کہانی کا اپنا اپنا عنوان ہے۔

اس کے باوجود پناہ کی تلاش میں نکلنے والے بھوکے پیاسے اور بے یار ومددگار فلسطینیوں کی کہانی حیقیتاً ایک ہے، جسے ایک فلسطینی کے الفاظ ہی بہتر عنوان دے سکتے ہیں۔ 'میں خدا سے بچوں کے قاتلوں سے بدلے کی دعا کرتا ہوں۔

اپنی بپتا کے بارے میں ایک فلسطینی احمد الکہلوت نے کہا ' غزہ میں اب کوئی جگہ بمباری سے محفوظ نہیں، میرا بچہ زخمی تھا ، لیکن اس کے زخموں کو سینے کے لیے غزہ کے کسی ہسپتال میں سہولت میسر نہیں تھی۔ کسی ایک ہسپتال میں بھی لے جا کر میں اس کے زخموں کو صاف کرنے اور ٹانکے لگوانے کی پوزیشن میں نہیں تھا۔

احمد الکہلوت نے بحری بیڑوں پر سجے جنگی طیاروں کی گھن گرج کی زد میں آئے سمندر کے کنارے غزہ کے بارے میں مزید کہا ' اب تو پانی بھی نہیں تھا ، یہاں تک کے نمکین پانی بھی نہیں تھا جس سے ہم اپنے ہاتھ اور منہ ہی دھو سکتے۔

ان حالات میں ہمیں اپنے گھروں اور گھروں کے ملبے کو چھوڑنا پڑا کہ گلیاں لاشوں سے بھری پڑی تھیں۔ بنیادی ضرورت کی کوئی چیز نہ تھی۔ لیکن لوگ امید کرتے ہیں کہ جنگ سے مسئلے کے حل نکلے گا۔ اللہ ہی جانتا ہے کہ یہ حل ہو گا یا نہیں۔

غزہ سے نکل کر پناہ کی تلاش میں جنوب کی طرف جانے والی ایک فلسطینی خاتون مریم البورنو نے کہا ' موت ، بے گھری اور بھوک نے مجھے اور میرے بچوں کو مجبور کر دیا ہم نکل پڑیں۔ ہمیں اس ترقی پسند دنیا نے جو انسانی حقوق کی باتیں کرتی ہے، اس دنیا نے ہمیں مایوس کر دیا۔'

وہ کہہ رہی تھیں ' ہم نے غزہ میں ہر طرف موت کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا ہے۔ اس سب نے ہمیں ہلا کر رکھ دیا ہے۔'

لیکن کیا ان نقل مکانی مکانی کرنے والوں کو ریلیف مل گیا، کہ اقوام متحدہ کے ادارے ' انروا' میں ابھی مناسب انتظامات نہیں۔ اونروا کے پناہ گزین کیمپ میں ایک ہی 'واش روم 'سینکڑوں افراد کو استعمال کرنا ہوتا ہے۔'

' اونروا ' کے زیر اہتمام ایک سکول میں کیمپ بیت لاھیا میں قائم ہے۔ اس میں موجود ایک فلسطینی نے کہا ' میں صرف محفوظ پناہ کی تلاش میں ہوں، حتٰی کے ' اونروا ' کے کیمپ میں ہم محفوظ نہیں ہیں۔'

اس فلسطینی نے یہ بھی کہا ' مجھے اپنے اور اپنے بچوں کے لیے صرف محفوظ جگہ چاہیے بمباری سے محفوظ جگہ ، ہم صرف اسی کی تلاش میں ہیں۔

غزہ کے الشفا ہسپتال کے باہر ایک جگہ پر ایک فلسطینی بچوں کو جمع کر کے خود کو مسخرے کے انداز میں پیش کر رہا تھا۔ تاکہ موت اور بھوک کے ساتھ ساتھ بمباری کی زد میں ان بے گھر بچوں کو ہنسا سکے۔ اس کا کہنا تھا ' تمام تر تکلیفوں اور درد کے باوجود ہم زندہ ہیں اور اس سب کچھ میں ہم ہنسنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

خان یونس کا اسماعیل نجار کسی سنسی کے بغیر کہہ رہا تھا ' ہمارے کمپاونڈ پرجب بمباری کی گئی، میں اپنے گھوڑے کے ساتھ آ رہا تھا، میں نے گھوڑے کو روکا، جہاز آیا اور جیسے وہ کچھ تاک رہا ہو ، اس کے ساتھ ہی ہر طرف بموں کی بارش تھی۔ 'یہ صرف بمباری اور تباہی نہیں تھی ، یہ زلزلہ تھا۔ میں اللہ سے عرض کرتا ہوں ہمارے بچوں کے قاتلوں سے بدلے کا سامان کر دے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں