جنگ کی وجہ سے اسرائیل معاشی کساد بازاری کا شکار ہونے لگا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیل اورحماس کے درمیان جنگ کے اسرائیل پر مرتب ہونے والے تباہ کن معاشی اثرات پر ماہرین تشویش کا اظہار کررہے ہیں۔

ماہرین کا خیال ہے کہ اسرائیل میں موجود بین الاقوامی کاروباری فرمیں اور کمپنیاں اپنے کاروبار اورسرمایہ کاری واپس لینے پر غور کررہی ہیں۔

العربیہ بزنس کی طرف سے تیار کی گئی کچھ رپورٹس کے مطابق اعداد و شمار اور بیانات کے مطابق یہ واضح ہوتا ہے کہ اسرائیلی صارف اس وقت غیر ضروری مصنوعات کی خریداری سے گریز کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جس کی وجہ سے تفریحی کمپنیوں اور لگژری مصنوعات کی فروخت متاثر ہوئی ہے۔

اسرائیلی اخبار معاریو کی رپورٹ کے مطابق جنگ کے براہ راست اثرات میں سے ایک خریداری میں کمی ہے کیونکہ تفریح اور طرز زندگی کی مصنوعات کی جگہ کھانے اور حفاظتی مصنوعات نے لے لی ہے۔

اخباری رپورٹ کے مطابق جنگ سے پیدا ہونے والے حالات میں لوگوں نے لگژری مصنوعات کی خریداری روک دی ہے اور یہ اسرائیلی معیشت پر منفی اثرات مرتب کررہا ہے۔

اسراکارڈ کی ایگزیکٹو وائس پریذیڈنٹ اور ہیڈ آف بزنس یافیت جاریانی کہتے ہیں کہ "جنگ شروع ہونے کے ساتھ، مقامی اخراجات میں کمی دیکھی جا رہی ہے۔ جنگ کے پہلے ہفتے میں چھوٹے کاروباروں نے تقریباً 34 فیصد کی کمی کا تناسب ریکارڈ کیا، لیکن چوتھے ہفتے تک اس میں کچھ بہتری آئی اور تقریباً 22 فیصد کمی آئی۔

ان اعدادو شمار میں خوراک اور دوا ساز کمپنیاں شامل نہیں ہیں کیونکہ یہ بنیادی ضروریات ہیں۔

اسرائیلیوں کو خریداری کا مہینہ کتنا پسند ہے۔ نومبر 2022ء کے مہینے کے آٹومیٹک بینک سروسز کے اعداد و شمار کے مطابق اسرائیل میں کریڈٹ کارڈ کے اخراجات 39.4 بلین شیکل تک پہنچ گئے، جس میں یومیہ اخراجات اوسطاً 1.31 بلین شیکل ہیں۔

بہت سی کمپنیوں نے اپنے ملازمین کو بلا معاوضہ چھٹی لینے کو کہا ہے، جبکہ بہت سے کاروبار بند ہیں۔ سٹورز بھی سامان کی قلت کا شکار ہیں۔

رپورٹ کے مطابق گوگل سرچ کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ 7 اکتوبر سے "آن لائن شاپنگ" کی تلاش میں گذشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں تقریباً 200 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں