فلسطین اسرائیل تنازع

ہسپتالوں پر اسرائیلی چڑھائی ، حماس نے یرغمالی رہا کرنے کے مذاکرات معطل کر دیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

فلسطینی مزاحمتی گروپ جو اسرئیل غزہ جنگ کے دوران اسرائیلی افواج کے مسلسل نشانے پر ہے اور امریکہ کی اسرائیل کو اس سلسلے میں مکمل حمایت حاصل ہے۔ اس مزاحمتی گروپ نے اسرائیلی فورسز کی غزہ کے ہسپتالوں پر چڑھائی اور ہسپتالوں کے لیے جنگی حکمت عملی کے بعد اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کے لیے بالواسطہ مذاکرات معطل کر دیے ہیں۔

غزہ کا الشفا ہسپتال اتوار کے روز سے باقاعدہ طور پر جنگ کا نشانہ بن کر رہ گیا ہے۔ اس پر مسلسل فائرنگ ہے اور اس وجہ سے اس کے اندر علاج معالجے کی سہولیات تک مکمل معطلی کا شکار ہیں۔

اسرائیل الزام لگاتا ہے کہ حماس ہسپتال کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتا ہے۔ اسرائیل اس الزام کا ابھی اس کا کوئی ثبوت سامنے نہیں لایا۔ دوسری جانب حماس اسرائیلی الزام کو رد کرتی ہے۔

اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے امریکی میڈیا کو اتوار کے روز بتایا تھا کہ یرغمالیوں کی رہائی کے لیے کوئی معاہدہ ہو گیا ہے، تاہم یاہو نے اس کی تفصیلات اس خدشے کے باعث نہیں بتائیں کہ معاہدہ کے ناکام بھی ہو سکتا ہے۔

یاہو نے ' این بی سی ' کے پروگرام ' میٹ دی پریس ' میں کہا ہم نے سنا ہے کہ اس قسم کا معاہدہ ہونے والا ہے لیکن جس لمحے ہم نے زمینی کارروائی شروع کی وہ بدلنا شروع ہو گئے۔

اس سوال پر کہ 'آیا یرغمالیوں کی رہائی کے لیے کوئی اور معاہدہ ممکن ہو سکتا ہے ؟ اسرائیلی وزیر اعظم نے مختصراً کہا ' ہو بھی سکتا ہے۔'

مقبول خبریں اہم خبریں