اردنی پارلیمان: قانونی کمیٹی اسرائیل کے ساتھ معاہدوں کا جائزہ لے گی

عالمی فوجداری عدالت کو اسرائیلی جنگی جرائم کے خلاف خط لکھنے کی بھی سپیکر کی طرف سے ہدایت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

اردن کی پارلیمان کے ایوان زیریں کے سپیکر احمد صافادی نے کمیٹی برائے قانون کو ہدایت کی ہے کہ وہ اسرائیل سے اردنی معاہدوں کا جائزہ لے تاکہ حکومت کو ضروری اقدام کے لیے کمیٹی کی سفارشات بھجوائی جا سکیں۔

کمیٹی کو بھیجنے پر ووٹنگ کے دوران ایوان میں موجود تقریبا تمام ارکان نے اس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا۔

احمد صافادی نے ایوان کی اس قانون سے متعلق کمیٹی کو یہ بھی ہدایت کی کہ وہ ایک باضابطہ شکایت پر مبنی خط بین الاقوامی فوجداری عدالت کو لکھے جس میں اسرائیل کے جنگی جرائم اور فلسطینیوں کی نسل کشی کے معاملات پر اسرائیل کے خلاف کارروائی کی استدعا کی جائے۔

انھوں نے کہا سپیکر چیمبر حکومت اور فوج کے ساتھ اس معاملے میں رابطہ کاری کرے گا کہ غزہ اور مغربی کنارے پر فیلڈ ہسپتال قائم کرے۔ واضح رہے 2009 سے فیلڈ ہسپتال غزہ میں کام کر رہا ہے۔ جنگ کے دنوں میں اردنی جنگی جہازوں نے غزہ میں قائم اس فیلڈ ہسپتال کو ادویات اور طبی آلات 'ڈراپ' کیے ہیں۔

1994 کے امن معاہدہ وادی عرب کے ساتھ ہی ساتھ 2016 میں دونوں ملکوں کے درمیان 10 ارب ڈالر کا ایک معاہدہ طے پایا تھا جس کے تحت اردن اسرائیل سے پندرہ سال کے لیے گیس حاصل کرے گا۔ یہ گیس سمندر میں پائے جانے والی گیس فیلڈ سے حاصل کی جانی ہے۔

نومبر 2022 میں اردن اور اسرائیل نے مفاہمتی یادداشت پر سائن کیے تھے جس کے تحت دونوں ملک پانی سے توانائی پیدا کرنے کے لیے دو طرفہ تعاون کریں گے۔
حال ہی میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ کے دوران اردن نے تل ابیب میں موجود سفیر کو واپس بلانے کا فیصلہ کیا تھا۔ اردن نے اس موقع پر اسرائیل سے بھی کہا تھا کہ فی الحال اپنا سفیر عمان واپس نہ بھیجے۔

مقبول خبریں اہم خبریں