فلسطین اسرائیل تنازع

اسرائیلی فوج کی جانب سے پہلی بار حماس کے ہاتھوں یرغمالی خاتون کی شناخت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

منگل کی صبح اسرائیلی فوج نے غزہ کی پٹی میں حماس کے ہاتھوں یرغمال بنائی گئی ایک خاتون فوجی کی شناخت کی تصدیق کی۔ فلسطینی تحریک حماس کے عسکری ونگ کی جانب سے ایک ویڈیو کلپ نشرکیا گیا ہے جس میں نوجوان خاتون قید میں دکھائی دے رہی ہیں۔

فوج نے ایک بیان میں کہا کہ ’’ہمارے دل مارسیانو خاندان کے ساتھ ہیں، جن کی بیٹی نوا کو ’دہشت گرد‘ تنظیم حماس نے بے دردی سے اغوا کیا تھا‘‘۔ اس طرح پہلی بار حماس کے ہاتھوں اغوا کیے گئے تقریباً 240 افراد میں سے ایک یرغمالی کی شناخت کی تصدیق ہوئی ہے۔انہیں 7 اکتوبر کو عبرانی ریاست کے جنوب میں حماس نے غیرمعمولی حملے میں یرغمال بنا لیا تھا۔

حماس کے عسکری ونگ عزالدین القسام بریگیڈز نے پیر کی شام اس خاتون فوجی کا ایک ویڈیو کلپ جاری کیا، جس میں وہ عبرانی زبان میں ایک خط پڑھتی دکھائی دے رہی ہے جس میں وہ نام،نمبر اور شناخت سے اپنی شناخت کر رہی ہے۔ اور کہتی ہیں کہ وہ غزہ میں چار دن سے نظر بند ہے۔

فوج نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ "تزہال (اسرائیلی فوج) کا ایک نمائندہ مارسیانو خاندان کے پاس گیا اور انہیں اس ویڈیو کی اشاعت سے آگاہ کیا۔ حماس پر "نفسیاتی دہشت گردی کا استعمال جاری رکھنے اور غیر انسانی سلوک کرنے کا الزام" لگایا۔

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ حماس کی طرف سے 7 اکتوبر کو عبرانی ریاست کے جنوب میں شروع کیے گئے اچانک اور غیر مسبوق حملے نے جنگ کو بھڑکا دیا۔

اسرائیلی میڈیا کے مطابق ان یرغمالیوں میں کم سے کم تیس کم سن بچے بھی شامل ہیں۔

حماس کے حملے کے بعد سے جس میں اسرائیلی حکام کے مطابق 1,200 افراد ہلاک ہوئے، جن میں زیادہ تر عام شہری تھے جوابی اسرائیلی حملوں میں 11,000 سے زائد فلسطینی شہید ہو گئے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں