اسرائیل : غزہ کی طرح لبنانی صحافیوں کو بھی براہ راست نشریات کے دوران قتل کر رہا ہے

بین الاقوامی شراکت داروں نے اسرائیل کو صحافیوں کے قتل کے لیے بھی استثنا دے دیا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

اسرائیل میڈیا کوریج کو روکنے کے لیے صحافیوں کو مسلسل نشانہ بنارہا ہے۔ حتیٰ کہ ان صحافیوں اور رپورٹروں کو بھی جو فیلڈ سے واقعات، جنگی جھڑپوں اور اسرائیلی حملوں کو رپورٹ کر رہے ہوتے ہیں۔

پیر کے روز بھی اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان کے علاقے میں ایسے صحافیوں کو نشانہ بنایا ہے یہ واقعات ویڈیوز میں بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔ لبنانی سرحد پر اسرائیل اور لبنان کے درمیان لڑائی کے واقعات بڑھنے کی نشاندہی کرتے ہیں۔

ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ متعدد صحافی جنہوں نے موٹے حروف میں لفظ ' پریس ' لکھی ہوئی جیکٹس پہن رکھی تھیں۔ یہ صحافی لبنان کے سرحدی گاؤں 'یرون' سے براہ راست نشریات کر رہے تھے۔ یہ گاؤں بنت جبیل نامی قصبے کے قریب ہے۔

'العربیہ' نے دکھایا ہے کہ صحافیوں کے قریب ہی کی جگہ کو ہدف بنانے کے لیے راکٹ حملہ کرتا ہے۔

اس جگہ پر براہ راست کوریج کے لیے موجود صحافیوں کا کہنا تھا وہ اپنی اس پیشہ ورانہ سرگرمی کے لیے اقوام متحدہ کے امن مشن کے ساتھ ' کو آرڈینیشن ' کے ساتھ آئے تھے۔

واضح رہے سات اکتوبر کے بعد سے لبنانی سرحد کے ساتھ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان تصادم کے واقعات جاری ہیں۔ صحافیوں کے سات اسرائیلی فوج کی طرف سے پیش آنے والے مسلسل واقعات کے بعد اسرائیل نے ان پر کبھی معذرت نہیں کی بلکہ بین الاقوامی اور مقامی خبر رساں اداروں کو صاف بتا دیا ہے کہ غزہ میں جنگی کوریج کرنے والے صحافیوں کی حفاظت کی ضمانت نہیں دے سکتا۔

یہ معاملہ صرف لبنانی صحافیوں کے ساتھ نہیں ہے ۔ اسرائیل نے غزہ میں بھی ایک ماہ کے دوران 37 کے قریب صحافیوں کو ہلاک کیا ہے۔ ان میں سے کم از کم 10 صحافی براہ راست نشانہ بنائے گئے۔

اب لبنانی سرحد کے ساتھ صحافیوں کو نشانہ بنانے کے واقعات کے بارے میں بھی اسرائیل نے صرف یہ کہا ہے کہ وہ اس بارے میں تحقیقیات کر رہا ہے۔

ایمن مہنا سمیر کاسر فاؤنڈیشن کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ہیں، ان کا کہنا ہے 'اسرائیل کا ایک معمول بن چکا ہے کہ اس کی افواج صحافیوں کو بھی اپنی گولیوں اور بموں سے ہدف بناتی ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ اس کا احتساب کرنے یا اس سے پوچھنے والا کوئی نہیں ہے۔

لہذا اسرائیل کو یہ اعتماد میسر ہے اسے اس طرح کے کسی واقعے پر سزا نہیں ملنا ہے۔ وہ عام شہریوں کی طرح جو چاہے صحافیوں کے ساتھ بھی کر سکتا ہے۔ یہ ایک طرح سے اسرائیل کو دنیا نے استثنا دے رکھا ہے۔ اسرائیل سمجھتا ہے کہ اسے دنیا میں کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔

ایمن مہنا نے یہ سوشل میڈیا پر با اثراسرائیلی حکام کے 'کمنٹس' کا بھی حوالہ دیا یہ اسرائیلی حکام سوشل میڈیا پر صحافیوں کو براہ راست دھمکیاں دیتے ہیں۔ یہ ایسی چیزیں ہیں جو اسرائیل کے لیے صحافیوں کو قتل کرنے کو بھی ایک ' نارملائزڈ ' ماحول کی سرگرمی سمجھتا ہے۔

سمیر کاسر فاؤنڈیشن کے اس ذمہ دار کا مزید کہنا تھا ' بد قسمتی سے اسرائیل کے بین الاقوامی سطح پر با اثر شراکت داروں نے بھی اسرائیل کی ان تمام باتوں جن میں سوشل میڈیا پر اسرائیلی تبصروں اور غیر قانونی جنگی اقدامات شامل ہیں سے آنکھیں بند کر رکھی ہیں۔

انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس کے مطابق کم از کم 34 فلسطینی صحافیوں کو اسرائیلی فوج جاں بحق کر چکی ہے جبکہ کئی زخمی ہیں اور بہت سے لاپتہ ہیں۔ لیکن امریکہ تک اس بارے میں انسانی حقوق اور اظہار رائے کے معاملے کے طور پر اسرائیل سے کبھی جواب نہیں مانگا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں