اسرائیل کا ایران پر بٹکوائن اور معاصر کرپٹو کرنسیوں کے ذریعےحماس کی مدد کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

ایک ایسے وقت میں جب امریکی حکام نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ حماس کو ایران سے ہتھیار، تربیت اور مالی مدد ملتی ہے،حال ہی میں دونوں فریقوں کی طرف سے روایتی مالیاتی نگرانی سے بچنے کی کوششوں کو نمایاں کیا گیا ہے۔

مالیاتی حکمت عملی

حماس نے حال ہی میں تیزی سے کرپٹو کرنسیوں کا سہارا لیا ہے تاکہ ایران سے رقوم وصول اور منتقل کی جا سکیں اور سنسر شپ سے بچ سکیں۔

یہ سلسلہ 7 اکتوبر کو اسرائیل پر حماس کے حملے کے بعد نہیں آیا بلکہ برسوں پہلے شروع ہوا، کیونکہ حماس نے 2019ء کے وسط میں اسرائیل کی طرف سے تنظیم کے ایک رہ نما کو نشانہ بنانے کے لیے کیے گئے فضائی حملے کے بعد کرپٹو کرنسیوں کی طرف اپنی توجہ مبذول کرائی۔ امریکی اخبار ’وال اسٹریٹ جرنل‘ کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی کارروائیوں نے حماس کو نقد رقوم کی منتقلی کے راستے بند کیے جس کے بعد حماس اورایران کے درمیان کرپٹو کرنسیوں کے ذریعے لین دین ہونے گا۔

معلومات سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ قتل کیے گئے رہ نما زہیر شملخ کی جگہ اپنے ساتھ ایک زیادہ جدید مالیاتی حکمت عملی لے کر آیا، جس نے مالی توازن کو طے کرنے کے لیے کرپٹو کرنسیوں جیسے بٹ کوائن (BTC) اور ٹیتھر (USDT) کو استعمال کرنے کا انتخاب کیا۔

اسرائیلی قانون نافذ کرنے والے حکام کے مطابق اس تبدیلی نے حماس اور اس سے منسلک گروہوں، جیسے کہ اسلامی جہاد کو اسرائیل پر اکتوبر کے حملوں سے پہلے کے دو سالوں میں ایران سے بڑی رقوم حاصل کرنے کی اجازت دی۔

اس نئے رجحان کا مقابلہ کرنے کے لیے اسرائیل کے نیشنل بیورو فار کامبیٹنگ ٹیررسٹ فنانسنگ (NBCTF) نے 2021 سے غزہ کی ایکسچینج کمپنیوں کے پاس حماس سے مبینہ روابط رکھنے والی کرپٹو کرنسیوں کو ضبط کرنے کے لیے 7 احکامات جاری کیے ہیں۔

دفتر نے یہ بھی انکشاف کیا کہ ان ایکسچینجز سے منسلک کرپٹو کرنسی والیٹس کو بڑی رقوم موصول ہوئی ہیں، غزہ میں کرنسی ایکسچینج سے منسلک دو درخواستوں پر 41 ملین ڈالر واپس کیے گئے ہیں اور مزید 93 ملین ڈالر فلسطینی اسلامی جہاد تحریک سے منسلک ہیں۔

کریپٹو کرنسیوں کی طرف حماس کے ابتدائی اقدام میں حامیوں کی طرف سے چھوٹے پیمانے پر عطیات بھی شامل تھے، جو کہ 2020 تک اسرائیلی حکام کے مطابق حوالا نیٹ ورکس کے اندر بڑے پیمانے پر منتقلی کا ایک اہم ذریعہ بن گیا تھا۔

انہوں نے یہ بھی وضاحت کی کہ حوالا ایک غیر رسمی اعتماد پر مبنی نقد رقم کی منتقلی کا نظام ہے جو دنیا بھر میں کام کرنے والے ایجنٹوں پر انحصار کرتا ہے۔ اور یہ نظام ان علاقوں میں مقبول ہے جہاں بینک مہنگے یا ناقابل اعتبار ہیں۔

رپورٹ میں پیچیدہ مالیاتی نیٹ ورک کا حوالہ دیا گیا ہے جس میں غزہ کی اسٹاک ایکسچینج شامل ہیں۔

کرپٹو کرنسیوں میں ادائیگی

ان معلومات سے ظاہر ہوتا ہے کہ بہت سی لین دین کی سرگرمیاں جیسے بین الاقوامی رقم کی منتقلی، تجارتی ادائیگیوں اور فلسطینی دھڑوں کی مالی امداد کو چھپانے کے لیے کرپٹو کرنسیوں کے ذریعے ادائیگی کی گئی اور ان تبادلوں کے ذریعے آنے والے فنڈز کا نصف تک حماس کو بھیج دیا گیا تھا۔

یہ بھی واضح نہیں ہے کہ حماس کو کرپٹو کرنسیوں میں کتنی رقم ملی، لیکن اس بات کے شواہد موجود ہیں کہ اس نے بڑی رقم اکٹھی کی۔

کریپٹو کرنسی اینالیٹکس پروگرام BitOK کے سی ای او دمتری مچیخن کے مطابق حماس سے منسلک اور اسرائیلی حکام کی طرف سے ضبط کیے گئے کریپٹو کرنسی پتوں کو 2020 اور 2023 کے درمیان تقریباً 41 ملین ڈالر موصول ہوئے۔

قابل ذکر ہے کہ امریکی محکمہ خزانہ نے 2018 میں 9 فریقوں پر پابندیاں عائد کی تھیں جس میں وجہ وزارت خزانہ نے ایک ایسے نیٹ ورک کے ملوث ہونے کو قرار دیا تھا جس کے ذریعے ایران نے روسی کمپنیوں کو شام کو تیل سپلائی کرنے کے لیے استعمال کیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں