اینستھیزیا اور جراثیم کش ادویات کے بغیر غزہ کی خواتین کے سی سیکشنز اور ایمرجنسی سرجری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیم (این جی او) ایکشن ایڈ نے منگل کو ایک بیان میں کہا کہ غزہ میں ہزاروں خواتین بچے کی پیدائش کے لیے اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال رہی ہیں اور بغیر جراثیم کش، اینستھیزیا یا درد کش ادویات کے سیزرین اور ہنگامی سرجری سے گذر رہی ہیں۔

غزہ کے شمال میں واحد فعال ہسپتال میں ڈاکٹروں نے ہفتے کے آخر میں 16 سیزرین سیکشن کیے ہیں اور بے ہوشی جیسی اہم طبی سامان کی کمی کے باوجود روزانہ 18 سے 20 بچوں کو پیدائش دی ہے۔

اس ماہ کے شروع میں اقوامِ متحدہ کے جنسی اور تولیدی صحت کے ادارے یو این ایف پی اے نے بتایا کہ اس وقت غزہ میں 50,000 حاملہ خواتین موجود ہیں۔

ایجنسی کے ایک اندازے کے مطابق آئندہ مہینے میں 5,500 بچے پیدا ہونے والے ہیں جن کی کل تعداد یومیہ 160 سے زیادہ ہے۔

العودہ ہسپتال کے ایک سینئر ڈاکٹر نے ایک صوتی پیغام میں ایکشن ایڈ کو بتایا، "ہم شمالی علاقے میں زچگی کی خدمات فراہم کر رہے ہیں۔ آج ہمیں غزہ شہر سے کئی حاملہ خواتین مریض موصول ہوئیں کیونکہ وہاں ہسپتال بند ہیں۔"

"ہم نے العودہ ہسپتال میں آج 16 سیزرین سیکشنز انجام دیئے۔ اب ہم ہر 24 گھنٹے میں تقریباً 18-20 نوزائیدہ بچوں کی پیدائش کروا رہے ہیں۔ میرے خیال میں یہ تعداد اگلے دنوں میں بڑھے گی کیونکہ لوگ غزہ شہر سے العودہ ہسپتال آئیں گے۔"

12 نومبر 2023 کو رائٹرز کی حاصل کردہ ویڈیو سے لی گئی اس تصویر میں شمالی غزہ کی پٹی میں انڈونیشیئن ہسپتال میں ایندھن اور بجلی ختم ہو جانے کے بعد ایک سال سے کم عمر فلسطینی بچے موصاب صبیح کو بچانے کی کوشش میں طبی کارکنان ایک دستی ریسیسیٹیٹر کا استعمال کر رہے ہیں۔ یہ بچہ اپنے گھر پر اسرائیلی حملے میں زخمی ہو گیا تھا۔ (رائٹرز)
12 نومبر 2023 کو رائٹرز کی حاصل کردہ ویڈیو سے لی گئی اس تصویر میں شمالی غزہ کی پٹی میں انڈونیشیئن ہسپتال میں ایندھن اور بجلی ختم ہو جانے کے بعد ایک سال سے کم عمر فلسطینی بچے موصاب صبیح کو بچانے کی کوشش میں طبی کارکنان ایک دستی ریسیسیٹیٹر کا استعمال کر رہے ہیں۔ یہ بچہ اپنے گھر پر اسرائیلی حملے میں زخمی ہو گیا تھا۔ (رائٹرز)

ایڈووکیسی اینڈ کمیونیکیشن فار ایکشن ایڈ فلسطین کے کوآرڈینیٹر ریحام جعفری نے کہا۔ "غزہ میں ہزاروں خواتین بچے کی پیدائش کے لیے اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال رہی ہیں اور بغیر جراثیم کش، اینستھیزیا یا درد کش ادویات کے سیزرین اور ہنگامی سرجری سے گذر رہی ہیں۔ یہ خواتین صحت کی معیاری نگہداشت اور محفوظ جگہ پر پیدائش دینے کے حق کی مستحق ہیں۔ اس کے بجائے وہ اپنے بچوں کو مکمل جہنم جیسے حالات میں دنیا میں لانے پر مجبور ہو رہی ہیں۔"

ڈاکٹر نے کہا، ایکشن ایڈ کے پارٹنر کے زیرِ انتظام العودہ ہسپتال میں گذشتہ تین دنوں سے بجلی یا ایندھن نہیں ہے لیکن وہ صرف بیٹریوں پر انحصار کرتے ہوئے ایسے مریضوں پر کام جاری رکھے ہوئے ہے جنہیں ہنگامی طبی امداد کی ضرورت ہے۔

علاقے کے دیگر تمام اسپتالوں کو مجبوراً بند کرنے کے بعد العودہ کے ڈاکٹر غزہ شہر یا علاقے کے شمال سے فرار ہونے والی حاملہ خواتین کی مدد کر رہے ہیں جو علاج اور بچے کی پیدائش کے لیے شدت سے مناسب جگہ کی تلاش میں ہیں۔

ڈاکٹر نے کہا، "یہ بڑے چیلنجز ہیں لیکن ہم اپنی خدمات اور طبی سہولیات کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ہمارے پاس طبی سامان، ہنگامی اور بے ہوشی کی ادویات کی قلت ہے۔ لیکن ہمارے ڈاکٹرز اور ٹیم اس کمی کو جتنا ہو سکے سنبھال رہے ہیں۔ یہ واقعی چیلنجنگ ہے۔ ہم زندہ بچے رہنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہم اپنی خدمات کو جاری رکھنے کی کوشش میں ہیں۔"

ہسپتالوں میں ایندھن ختم ہونے پر تباہی آشکار ہو رہی ہے

غزہ میں ہسپتالوں کی صورتِ حال تباہ کن ہے - جمعہ کے بعد سے محصور انکلیو اور اردگرد کے علاقوں میں بڑی طبی سہولیات شدید اسرائیلی حملے کی زد میں ہیں۔

3 نومبر 2023 کے اوائل کی اس تصویر میں غزہ شہر کے اندھیرے میں گھرے ہوئے الشفاء ہاسپٹل کا ایک منظر ہے جہاں ایندھن ختم ہو جانے سے بجلی کی پیداوار بند ہے۔ (اے ایف پی)
3 نومبر 2023 کے اوائل کی اس تصویر میں غزہ شہر کے اندھیرے میں گھرے ہوئے الشفاء ہاسپٹل کا ایک منظر ہے جہاں ایندھن ختم ہو جانے سے بجلی کی پیداوار بند ہے۔ (اے ایف پی)

غزہ کے 35 ہسپتالوں میں سے بائیس – بشمول دو بڑی طبی سہولیات الشفاء اور القدس – ایندھن ختم ہونے کی وجہ سے اب کام نہیں کر رہے ہیں۔

اردگرد کے علاقے میں مسلسل گولہ باری میں کوئی وقفہ نہ آنے کے باعث لوگ پانی، خوراک یا بجلی کے بغیر اندر پھنسے ہوئے ہیں۔

الشفاء ہسپتال کے عملے نے بتایا کہ وہاں ہفتے کے روز سے تین نوزائیدہ بچوں کی موت واقع ہو چکی ہے جب ان کے انکیوبیٹرز کو بند کرنا پڑا۔

عملے نے کہا ہے کہ وہ اب باقی 36 نوزائیدہ بچوں کو زندہ رکھنے کی شدت سے کوشش کر رہے ہیں۔ وزارتِ صحت نے کہا ہے کہ گذشتہ چند دنوں میں ہسپتال کے کم از کم 32 مریضوں کی موت واقع ہو چکی ہے تاہم لاشوں کی تدفین ناممکن ہے۔

جعفری نے ایک بیان میں کہا۔ "ہسپتالوں میں خوراک، پانی، بجلی اور ایندھن کی کمی ہے اور مریضوں کی مسلسل بڑھتی ہوئی تعداد کی وجہ سے کام مکمل طور پر بند ہوتا جا رہا ہے۔ اس تکلیف کے ختم ہونے سے پہلے کتنے اونچے لاشوں کے ڈھیر لگیں گے اور کتنے بے سہارا بچے مریں گے؟"

ایکشن ایڈ نے فوری طور پر جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ کافی ایندھن اور طبی سامان غزہ میں داخل ہو اور ہسپتالوں تک پہنچ سکے تاکہ وہ ضرورت مندوں کو زندگی بچانے والی نگہداشت فراہم کرنا شروع کر سکیں۔

جعفری نے کہا۔ "اس سے زیادہ شدت سے یہ بات نہیں کہی جا سکتی: ہسپتال کبھی بھی ہدف نہیں ہوتے اور نہ ہونا چاہیے۔ ان محفوظ پناہ گاہوں کو بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت محفوظ حیثیت حاصل ہے اور اس کا احترام ہونا چاہیے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں