شام میں امریکی فوجی اڈوں پر عسکریت پسندوں کے حملوں کا امریکی اعتراف

24 گھنٹوں کے دوران 4 ڈرون اور راکٹ حملے ہوئے۔ بڑا نقصان نہیں ہوا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

امریکہ کی بین الاقوامی افواج کو شمال مشرقی شام میں گذشتہ 24 گھنٹوں سے کم کے دورانیے میں چار مرتبہ ڈرون حملوں اور راکٹ حملوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ایک ڈرون کو مار گرایا گیا ہے۔ یہ بات ایک امریکی فوجی ذمہ دار نے جمعرات کے روز بتائی ہے۔

ماہ اکتوبر سے اب تک کے حملوں کے دوران کل 56 امریکی فوجی معمولی قدرے زیادہ زخمی ہوئے۔ پینٹاگون کا کہنا ہے کہ زخمی ہونے والے تمام 56 فوجی واپس ڈیوٹی پر ہیں۔

امریکی فوجی ذمہ دار کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے کم وقت میں کوئی بڑا نقصان نہیں ہوا ہے البتہ معمولی نقصان ہوا ہے۔ واضح رہے لبنان سے نشریات دینے والے ایرانی حمایت یافتہ ٹی وی 'المیادین' جس پر پیر کے روز اسرائیل میں نشریات کو بلاک کر دیا گیا ہے۔ 'المیادین' نے اطلاع دی تھی کہ شام میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا گیا ہے، تاہم ٹی وی چینل نے متعدد ہلاکتوں اور بعد ازاں چار ہلاکتوں کا دعویٰ کیا تھا۔

امریکی فوجی حکام نے فوری طور پر اس بارے میں کوئی بیان جاری نہیں کیا تھا، تاہم اب بتایا گیا ہے کہ 24 گھنٹوں سے تھوڑے وقت میں شام میں دو امریکی فوجی اڈوں کو عسکریت پسندوں نے شانہ بنایا گیا لیکن نقصان بہت معمولی ہوا ہے۔

امریکی فوجی حکام کی بیان کردہ اطلاعات کے مطابق العمر آئل فیلڈ کے نزدیک الشدادی میں قائم امریکی فوجی اڈے کو اتوار کے روز تین مرتبہ حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔

اسی طرح امریکی افواج پر رومالین لینڈنگ زون پر پیر کی صبح ایک سے زائد ڈرون حملے کیے گئے۔ ان میں سے امریکی افواج نے ایک ڈرون کو مار گرایا ، لیکن ایک ڈرون نے چار خیموں کو نقصان پہنچایا۔ یہ خیمے فوجیوں کی رہائش کے لیے تھے یا کسی اور مقصد کے لیے تھے اس کا کوئی زکر نہیں کیا گیا ہے۔

فوجی حکام کے مطابق شام میں امریکی فوجی اڈوں پر یہ حملے دو امریکی فضائی حملوں کے بعد کیے گئے ہیں۔ امریکی فضائی حملوں میں ایرانی حمایت یافتہ گروپوں کے زیر استعمال سہولتوں کو اتوار کے روز بمباری کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

خیال رہے امریکہ کے فوجی اڈوں پر شام میں حملوں کا یہ واقعہ چند ہفتوں کے دوران تیسری بار سامنے آیا ہے۔ ایرانی حمایت یافتہ گروپوں نے ڈرونز یا راکٹس کی مدد سے حملے کیے ہیں۔ امریکیوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی ہے۔

امریکی اور اس کی اتحادی افواج عراق میں ماہ اکتوبر کے شروع سے اب تک کم از کم 40 مرتبہ عسکری گروپوں کی طرف سے حملوں کی کوشش کی زد میں آچکی ہیں۔

حملہ آور عسکری گروپوں کا کہنا ہے اس کا جواز غزہ میں اسرائیلی بمباری کی امریکہ کی جانب سے حمایت اور حماس مخالف جنگ میں اسرائیل کے ساتھ کھڑا ہونا ہے ۔

امریکی حکام نے اب تک وقتاً فوقتاً جو معلومات شئیر کی ہیں ان میں 56 امریکی فوجیوں کو نقصان پہنچا ہے یا زخم لگے ہیں۔ ان میں سے کئی کو صدماتی اور خوف کی صورت حال کا سامان ہوا اور کئی کے دماغ کو بھی چوٹیں لگی ہے۔ تاہم پینٹاگون کے مطابق یہ سب امریکی فوجی صحت یابی کے بعد واپس اپنی ڈیوٹی پر آ چکے ہیں۔

امریکہ کا اس بارے میں الزام ایرانی حمایت یافتہ عسکری گروپوں پر ہے۔ واضح رہے شام میں امریکی فوجی اڈوں پر 900 فوجی موجود ہیں اور عراق میں موجود امریکی اڈوں پر 2500 امریکی فوجی تعینات ہیں۔

دفاعی تجزیہ کار عراق اور شام میں اس صورت حال کو اسرائیل کے لیے امریکی حمایت کے باعث اسرائیل کی غزہ میں اندھی قتل و غارت گری کی وجہ سے پھیل جانے کے اندیشے کے ساتھ دیکھ رہے ہیں۔

خود امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی وزیر دفاع کو اسی جانب متوجہ کیا ہے کہ اسرائیل اب ایسے اقدامات کی طرف نہ جائے جو جنگ کو غزہ سے باہر لبنان وغیرہ تک پھیلانے کا سبب بنیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں