غزہ کوفلسطینی آبادی سے خالی کرنا خطے کے لیے بہترین حل ہے:اسرائیلی وزیرکا متنازع بیان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

گذشتہ ہفتوں کے دوران غزہ کی پٹی کے شمال سے اس کے جنوب میں 2.4 ملین میں سے تقریباً 1.6 ملین فلسطینیوں کے بے گھر ہونے کے بعد ایک اسرائیلی وزیر نے پٹی کو خالی کرنے کے تنازعے کو دوبارہ چھیڑا اور فلسطینیوں کی جبری نقل مکانی پر بحث کو دوبارہ زندہ کر دی۔ حالانکہ مصر اور اردن سب سے پہلے غزہ کی پٹی سے آبادی کے جبری اخلاء کے نتائج پر خبر دار کرچکے ہیں۔

متنازع اسرائیلی وزیر خزانہ بزلئیل سموٹرچ کا کہنا ہےکہ غزہ کے رہائشیوں کو نکالنا ان کے لیے اور خطے کے لیے "صحیح انسانی حل ہے"۔

بین الاقوامی مالی امداد

اسرائیلی براڈ کاسٹنگ کارپوریشن کی طرف سے نشر کردہ بیان میں انہوں نے منگل کے روز ایک بیان میں کہا کہ وہ غزہ کے رہائشیوں کو رضاکارانہ طور پر دنیا کے ان ممالک میں منتقل کرنے کے لیے کنیسٹ کے اراکین کی جانب سے شروع کیے گئے اقدام کا خیرمقدم کرتے ہیں۔

انہوں نے غزہ کے رہائشیوں کے انخلاء کے اقدام کو عملی جامہ پہنانے کے لیے بین الاقوامی مالی امداد کا بھی مطالبہ کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ان کا ملک اس امداد کا حصہ بنے گا۔

اس کے علاوہ انہوں نے وضاحت کی کہ وہ یہ نہیں سمجھتے کہ "غزہ کی پٹی کے لیے مالی اور سیاسی طور پر آزادانہ وجود میں آنے کا کوئی موقع موجود ہے"۔

انہوں نے کہا کہ "یہ غزہ کی پٹی اور پورے خطے کے باشندوں کے لیے 75 سال کی پناہ، غربت اور خطرات کے بعد صحیح انسانی حل ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ واحد حل ہے جو یہودیوں اور عربوں کے درمیان یکساں طور پر دکھ اور درد کو ختم کر دے گا"۔

سموٹرچ نے کہا کہ ان کا ملک "غزہ میں ایک آزاد وجود کے ساتھ مزید مفاہمت نہیں کر سکے گا جو فطری طور پر اسرائیل سے نفرت اور اسے تباہ کرنے کی خواہش پر مبنی ہے"۔

حکمراں لیکوڈ پارٹی سے کنیسٹ کے ارکان ڈینی ڈینن اور حزب اختلاف کی طرف سے رام بین بارک نے مستقبل کی پارٹی نے کل پیر کو یہ واضح کر دیا کہ حکمران اتحاد اور حزب اختلاف دونوں کے کنیسیٹ کے متعدد ارکان کی جانب سے پیش کردہ اقدام میں ایک ایسا منصوبہ تیار کرنے پر زور دیا ہے جو غزہ کی پٹی سے مہاجرین کی بڑے پیمانے پر نقل و حرکت کو اجازت دے گا اورانہیں پڑوسی ممالک میں آباد کرنے کے مربوط اور منظم میکانزم کو قبول کرنے پر راضی ہیں۔ انھوں نے امریکن وال سٹریٹ جرنل کی طرف سے شائع ہونے والے ایک مضمون میں کہا کہ ’’یہ اقدام دنیا کے ممالک کے لیے ایک موقع ہے کہ وہ شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور ایک پائیدار حل کے لیے ہمدردی اور عزم کا اظہار کریں جس سے مشرق وسطیٰ کو مستحکم کرنے میں مدد ملے گی‘۔

شمالی غزہ سے جنوبی غزہ کی طرف نقل  مکانی کرتے فلسطینی

سابقہ ہنگامہ

قابل ذکر ہے کہ وزیر خزانہ جو کہ مذہبی صیہونیت پارٹی کے سربراہ ہیں کے ایک سابقہ بیان پر گذشتہ ہفتے سخت تنقید کی لہر اٹھی جب انہوں نے مغربی کنارے میں فلسطینیوں کو تنہا کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

اس کے بعد فلسطینی وزارت خارجہ نے ان کے بیانات کو "نوآبادیاتی اور نسل پرستانہ اور مغربی کنارے کو الحاق کرنے کے قابض ریاست کے عزائم کی عکاسی قرار دیا تھا‘‘۔

غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فوجی اڈوں اور بستیوں پر حماس کے اچانک حملے کے بعد 7 اکتوبر کو شروع ہونے والی جنگ کے پہلے دنوں سے مصر اور اردن کی قیادت میں بہت سے عرب ممالک نے فلسطینیوں کو جبری بے گھر ہونے کے خلاف خبردار کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں