فلسطین اسرائیل تنازع

مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج کے ساتھ جھڑپوں میں 5 فلسطینی شہید: ہسپتال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایک مقامی ہسپتال کے ڈائریکٹر نے منگل کو اے ایف پی کو بتایا کہ شمالی مغربی کنارے کے شہر طولکرم کے اردگرد اسرائیلی افواج کے ساتھ جھڑپوں میں پانچ فلسطینی ہلاک ہو گئے۔

ثابت ہسپتال جہاں یہ اموات ریکارڈ کی گئیں، کے سربراہ امین خدر نے بتایا کہ اسرائیلی فوج کی جانب سے شہر میں ایک آپریشن کے دوران 21 سے 29 سال کی عمر کے پانچ فلسطینی ہلاک ہو گئے۔

عینی شاہدین نے علاقے میں پرتشدد تصادم اور گرفتاریوں کے لیے اسرائیلی فوجیوں کی بڑے پیمانے پر تعیناتی کی اطلاع دی۔

اسرائیلی فوج نے اے ایف پی کو تصدیق کی کہ ایک کارروائی مقبوضہ مغربی کنارے کے اسی حصے میں ہوئی تھی تاہم اس نے کسی فلسطینی کی ہلاکت کے بارے میں کوئی وجہ یا تبصرہ نہیں کیا۔

جمعرات کو فلسطینی وزارتِ صحت نے کہا کہ جنین شہر میں اسرائیلی آپریشن میں 14 افراد ہلاک ہو گئے جو اقوامِ متحدہ کے ریکارڈ کے مطابق کم از کم 2005 کے بعد سے مغربی کنارے کے ایک چھاپے کے دوران ہونے والی سب سے زیادہ ہلاکتیں ہیں۔

اسرائیل نے مغربی کنارے پر 1967 کی عرب-اسرائیل جنگ کے بعد سے قبضہ کر رکھا ہے اور اس کے فوجی فلسطینی علاقے میں باقاعدگی سے حملے کرتے رہتے ہیں۔

فلسطینی قیدیوں کے کلب ایڈوکیسی گروپ کے مطابق 7 اکتوبر کو اسرائیل اور حماس کے درمیان غزہ کی پٹی میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے اسرائیلی افواج نے مغربی کنارے میں 2,000 سے زائد افراد کو گرفتار کیا ہے اور مشرقی یروشلم کا الحاق کر لیا ہے۔

اسرائیلی فوج نے مغربی کنارے میں گرفتاریوں کی تعداد صرف 1400 بتائی ہے اور کہا ہے کہ زیادہ تر کا تعلق حماس سے تھا۔

دونوں اطراف کے حکام کے مطابق 7 اکتوبر سے مغربی کنارے میں کم از کم 180 فلسطینی اور تین اسرائیلی ہلاک ہو چکے ہیں۔

حماس کے اکتوبر کے اچانک حملے – اسرائیل کی تاریخ کا بدترین حملہ – میں ایک اندازے کے مطابق 1,200 افراد ہلاک ہوئے جن میں زیادہ تر اسرائیلی شہری تھے۔

اسرائیل نے غزہ کی پٹی میں بڑے پیمانے پر بمباری اور زمینی کارروائیوں کے ساتھ جواب دیا ہے جس کے بارے میں حماس کے زیرِ انتظام وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ اب تک 11,240 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں 4,630 بچے بھی شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں