’اس کا نام کیا ہے‘ فلسطینی شہروں اورقصبوں کے اصل ناموں کی تذکیر کے لیے سوشل میڈیا مہم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

گذشتہ ہفتوں کے دوران سوشل میڈیا پر بہت سے فلسطینی کارکنان فلسطینی مشہور شخصیات اور انفلوئنسرز یا فلسطینی نژاد افراد کی طرف سے شائع کیے گئے ویڈیو کلپس میں مصروف ہیں، جن میں ان شہروں کے ناموں کے بارے میں تصویروں کے ساتھ بحث کی جا رہی ہے جنہیں اسرائیل نے دہائیاں قبل تبدیل کیا تھا۔

"اس کا نام کیا ہے؟"

یہ اقدام "اس کا نام کیا ہے؟" کے عنوان سے شروع کی گئی مہم کے ایک حصے کے طور پر سامنے آیا ہے، جس کا مقصد لوگوں کو فلسطینی علاقوں کے نام یاد دلانا ہے جنہیں اسرائیل نے کئی سال پہلے تبدیل کیا تھا۔

مثال کے طور پر ایک ویڈیو میں ایسی معلومات نشر کی گئی ہیں جن میں اس نے فلسطین کے قصبوں اور شہروں کے پرانے عربی نام جنہیں عبرانی میں بدل دیا گیا کی تفصیلات شامل ہیں۔

اس میں بتایا گیا ہے کہ ’ایلات‘ کا اصل نام "ام الرشراش" تھا جب کہ تل ابیب کو "الشیخ مونس گاؤں/یافا" کہا جاتا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ القدس کو اسرائیلیوں نے یروشلم نام دیا۔ بئر شیفاع کو "بئر سبع " کہا جاتا تھا۔ نتانیا کو "ام خالد، عککو کا اصل نام "عکا" تھا۔ موکریات شمونہ کا "الخالصہ" ،تسرفین کو "صرفند" اور یزرعیل کا اصل نام "زرعین" ہے۔

ویڈیو میں بتایا گیا ہے کہ تزیپوری کا نام "صفوریہ" ہے۔ احیھود کو "البروہ" کہا جاتا تھا۔ شوکت جنکشن کا نام "المسمیہ" ہے۔ اشکلون "عسقلان " مشہور تھا "کریات جات کا نام عراق المنشیہ تھا، کریم شالوم کو "کرم ابو سالم" کہا جاتا تھا۔ ابو فراج/بیسان کا گاؤں"، اللود کا اصل نا "لد" تھا۔ بیت شیمش "بیت الشمس تھا جو القدس کے نواح میں موجود ایک قصبہ ہے۔ بیت جیمل کا اصل نام دیر جمال تھا اور زخریا کا پرانا نام زکریہ گاؤں گا۔

یہ مہم اسرائیل کی جانب سے غزہ کی پٹی میں 39 دنوں سے زائد عرصے سے مسلط کی گئی فوجی کارروائی کے نتیجے میں سامنے آئی ہے۔

رائے عامہ کے ایک جائزے میں اسرائیل میں عوامی حلقوں کی طرف سے نیتن یاھو کی مقبولیت کے ختم ہونے کے اشارے ملے ہیں۔

اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ دوسرے مہینے میں جاری ہے اور غزہ میں وزارت صحت کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق اب تک 11,240 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں 4,600 سے زیادہ بچے بھی شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں