غزہ کا الشفاء ہسپتال فلسطینی شہداء کی سب سے بڑی اجتماعی قبر کا گہوارہ بن گیا!

اسرائیلی فوج کے محاصرے میں ہسپتال کے اندر اجتماعی قبر مہذب دنیا کی پہلی مثال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

غزہ کا سب سے بڑا 'الشفاء ہسپتال' اب کسی چار دیواری کے اندر اور فوجی محاصرے میں ایک یا ایک سے زائد اجتماعی قبروں کا گہوارہ بن جائے گا۔ منگل کے روز اسرائیلی فوج کے محاصرے میں اور اسرائیلی نشانچی کی گولیوں کی زد میں الشفاء ہسپتال کے اندر زندہ فلسطینی اجتماعی قبر کو کھودنے میں ہی مصروف تھے۔

ہسپتال کے اندر داخل زخمیوں کی صورت ہلاک ہو جانے والوں کے علاوہ ان ہلاک ہو چکے فلسطینیوں کی بھی ایک بڑی تعداد اب بے گور وکفن لاشوں کی صورت میں موجود ہے۔ ان میں بچے بھی ہیں، عورتیں بھی فلسطینی بوڑھے اور جوان بھی۔

کئی ایسے بھی اب زندوں میں شامل نہیں جو زندہ رہ سکنے کی امید لے کر ہسپتال کو پناہ گاہ سمجھ کر یہاں پہنچے تھے۔ مگر یہیں وہ جاں بحق ہو گئے۔

پچھلے کئی دنوں سے ہسپتال میں موجود ان کی لاشیں اور اس میں ہر روز ہونے والے اضافے کے باوجود انہیں ہسپتال سے باہر لے جا کر تدفین کی صورت پیدا کرنا ممکن نہیں رہا ہے۔ اب زندہ رہ گئے مگر موت کے سائے میں پڑے ان کے فلسطینی بھائی منگل کے روز انہی کے لیے اجتماعی قبرتیار کر رہے تھے۔

جب ہسپتال کے چاروں طرف اسرائیلی فوج کا گھیرا ہو، ٹینکوں کی گھن گرج ہو، ڈرون حملے کے لیے پرواز کر رہے ہوں اور ماہر نشانچی اپنی انگلیاں ٹرائیگرز پر رکھے کھڑے ہوں، یہی نہیں گاہے گاہے ٹینک کا گولہ برس جاتا ہو اور کبھی ماہر نشانچی کی گولیوں کی بارش ہو جاتی ہو، ان فلسطینیوں کی لاشوں کو مزید بے توقیری اور بے حرمتی سے بچانے کے لیے اجتماعی قبر ہی آپشن ہو سکتی تھی۔ لیکن اندازہ نہیں کہ ایک اجتماعی قبر کافی ہو گی یا ابھی کئی اجتماعی قبروں کی تیاری ضروری ہو گی۔

اسرائیلی فوج نے الشفاء ہسپتال کو یہ کہہ کر پورا غزہ تباہ کرنے کے ساتھ ساتھ گھیرے میں لے رکھا ہے کہ اسے ابھی بھی خوف ہے کہ حماس کے جنگجو ہسپتال سے نکل کر حملہ کر دیں گے۔ اس لیے وہ ہسپتال کو حماس کے ہیڈ کوارٹر کے طور پر بیان کر رہا ہے۔ حماس اس الزام کی تردید کرتی ہے۔

خود الشفاء ہسپتال کی انتظامیہ کا بھی موقف اسرائیلی فوج کے بالکل برعکس ہے۔ انتظامیہ کے مطابق اس وقت بھی ہسپتال میں 650 مریض اور زخمی ہیں۔ جبکہ پانچ سے سات ہزار وہ بے گھر فلسطینی ہیں جن کے گھر اسرائیلی بمباری نے ملبے کا ڈھیر بنا دیے تو اپنے بچے کھچے افراد خانہ کے ساتھ ہسپتال کے احاطے میں پناہ لینے آگئے کہ 'مہذب دنیا' میں کوئی فاشسٹ نہیں ہوتا اس لیے ہسپتال پر حملہ تھوڑا ہی کرے گا۔

مگر حالیہ دنوں میں ہسپتال کی ناکہ بندی اور محاصرے کے بعد 40 زخمی دم توڑ گئے جبکہ تین نومولود بچے 'انکیوبیٹرز' کی بجلی بند ہوجانے کی وجہ سے تڑپ تڑپ کے واپس جنتوں میں چلے گئے۔

اشرف القادرا غزہ میں وزارت صحت کے ترجمان ہیں۔ ان سے فون پر رابطہ ہوا تو وہ کہہ رہے تھے 'ہسپتال میں ایک سو کے قریب لاشیں پڑی ہیں۔ انہیں تدفین کے لیے کسی قبرستان لے جانا ممکن نہیں رہا۔ اس لیے آج ان کی الشفاء ہسپتال کے اندر ہی اجتماعی قبر میں تدفین کا سوچا ہے۔

یہ بڑی خطرناک صورت حال ہے کہ ہمار پاس ریڈ کراس کے ادارے کی طرف سے کوئی 'کور' یا تحفظ بھی نہیں ہے۔ مگر اس کے بغیر کوئی اور آپشن ہی نہیں ہے۔' انہوں نے مزید کہا 'لاشیں کئی روز پرانی ہونے کی وجہ سے گلنا شروع ہو رہی ہیں۔ اس لیے جب میں آپ سے بات کر رہا ہوں اس وقت ہسپتال میں اجتماعی قبر کی تیاری کی جارہی ہے۔'

نو مولود بچے جنہیں 'ابھی انکیوبیٹرز' میں رکھنے کی ضرورت تھی، ان میں سے اب 36 باقی رہ گئے ہیں۔ ایندھن کے بغیر بجلی اور بجلی کے بغیر 'انکیو بیٹرز' کیسے کام کر سکتے ہیں۔ اب یہ بچے ایک ایک بیڈ پر آٹھ آٹھ لٹا دیے گئے ہیں۔ اور ہر ممکن کوشش کی جارہی ہے کہ ان کے آس پاس درجہ حرارت کو کنٹرول رکھا جا سکے۔

اشرف القادرا نے کہا 'اسرائیل نے جن 'اکیوبیٹرز' کے دینے کا اعلان کیا تھا تاکہ ان نومولودوں کو کسی اور ہسپتال منتقل کیا جاسکے، اسرائیل کا اعلان تو سامنے آیا لیکن ابھی تک کوئی انتظام نہیں کیا گیا۔ اس لیے یہاں سے ان بچوں کو لے جانا ممکن نہیں ہو سکا۔'

ایک سوال کے جواب میں وزارت صحت کے ترجمان نے کہا 'ہمیں بچوں کے منتقل کرنے پر کوئی اعتراض نہیں، انہیں مصر لے جایا جائے، کسی فیلڈ ہسپتال میں، حتیٰ کہ اسرائیل کے کسی ہسپتال میں بھی لے جائیں۔ کوئی اعتراض نہیں کہ ہم ان کی زندگی بچانا چاہتے ہیں۔'

وہ کہہ رہے تھے 'ہم تو کہیں جا نہیں سکتے، قبضہ اور محاصرہ جاری ہے، ڈاکٹر بھی مشکل سے گولیوں کے سائے میں نکل کر وارڈ تک جا سکتے ہیں، مگر کسی وقت ڈاکٹر خطرہ مول لے کر نکلنے کی کوشش کرتے ہیں اور مریضوں یا زخمیوں تک پہنچ جاتے ہیں۔'

دوسری جانب اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس نے ہسپتال کو محاصرے میں نہیں لے رکھا۔ اسرائیلی فوج جو ہسپتال سے جانا چاہے اسے جانے دیتی ہے۔ تاہم طبی عملے کا کہنا ہے اسرائیلی دعویٰ درست نہیں ہے۔ جسے ہسپتال سے نکلنا ہو گا تو گولیوں کے سائے میں نکلنا ہو گا۔


ڈاکٹر احمد المخللاتی ایک سرجن ہیں۔ ان کا کہنا ہے 'اس وقت اصل مسئلہ لاشوں کا 'ڈی کمپوز' ہونا ہے۔ اس وجہ سے بہت خطرہ ہے کہ مختلف قسم کے انفیکشن ایک سے دوسرے کو منتقل ہو سکتے ہیں۔'

آج تھوڑی بارش ہوئی، یہ بھی خوفناک منظر تھا کوئی شخص کھڑکی نہ کھول سکتا تھا، نہ راہداری میں جا کر چل سکتا تھا۔ کہ لاشوں کے کئی دن سے پڑے ہونے کی وجہ سے بو پھیل رہی تھی۔

ان کا کہنا تھا 'ایک سو بیس لاشوں کی تدفین کے لیے بہت سے لوازمات چاہییں، یہ سب کچھ کوئی اکیلا آدمی نہیں کر سکتا۔ تدفین کے اس عملے میں کئی گھنٹے درکار ہوں گے۔' ڈاکٹر احمد المخللاتی نے کہا 'پیر کے روز سرجری کی گئی لیکن انستھیزیا کے بغیر اور آکسیجن کے بغیر سرجری کی گئی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں