اسرائیلی فوج الشفاء ہسپتال کے تہ خانوں میں یرغمالیوں کی موجودگی کے دعوے سے مکر گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

اسرائیلی فوج نے غزہ کی پٹی کے الشفاء ہسپتال پر دھاوے، سرچ آپریشن اور کئی افراد کو موت کےگھاٹ اتارنے کے بعد اس دعوے سے مکر گئی ہے کہ حماس نے ہسپتال کے تہہ خانے میں کچھ یرغمالیوں کو رکھا تھا۔

اس سے قبل قابض اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا تھا کہ غزہ کے الشفاء ہسپتال کے تہہ خانے میں حماس نے یرغمال بنائے گئے اسرائلیوں کو قید کیا تھا اور ساتھ ہی حماس نے ہسپتال کے نیچے سرنگیں بنا رکھی تھیں۔

اسرائیلی آرمی ریڈیو کی رپورٹ کے مطابق فوج نے بتایا کہ مذکورہ کمپاؤنڈ میں قیدیوں کی موجودگی کے ابھی تک کوئی اشارے نہیں ملے ہیں۔

تاہم قابض فوج نے بدھ کو مزید کہا کہ "تلاش اور معائنے کا عمل جاری ہے"۔

یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ حماس کے کئی انفراسٹرکچر سے ہتھیار ملے ہیں۔

انٹیلی جنس معلومات

اسرائیلی فوج کے ترجمان نے اس سے قبل اعلان کیا تھا کہ ان کی افواج اب بھی حماس سے منسلک انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کمپلیکس کے ایک مخصوص مقام پر مرکوز فوجی آپریشن جاری رکھے ہوئے ہیں۔

انہوں نے ایک ویڈیو کے ساتھ "ایکس" پلیٹ فارم پر ایک ٹویٹ میں کہا کہ فوج کے ارکان کمپاؤنڈ میں داخل ہونے سے پہلے حماس کے سیلوں سے ٹکرا گئے تھے۔

العربیہ اور الحدث کے نامہ نگار نے وضاحت کی کہ اسرائیلی فوج نے الشفا کمپلیکس پر دھاوا بول دیا اور اس میں موجود ہر شخص کو مشرقی سمت میں میں جمع ہونے کو کہا اور بعد میں ہسپتال کو خالی کرنے کے لیے مغربی دروازے کی طرف جانے کو کہا۔

تہہ خانے میں

انہوں نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ اسرائیلی فورسز نے چہرے کی شناخت کرنے والے کیمرے اور الیکٹرانک گیٹس نصب کیے ہیں۔ دریں اثناء کمپلیکس کے تمام حصوں میں یہاں تک کہ اس کے صحن میں پہلے سے لگائے گئے نقل مکانی کے خیموں میں بھی وسیع پیمانے پر معائنہ شروع کیا گیا۔

اس نے تصدیق کی کہ وہ اب بھی ہسپتال کے تہہ خانے میں موجود ہے جبکہ ہسپتال کے ارد گرد جھڑپوں کی آوازیں اب بھی اندر سے سنی جا سکتی تھیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں