اسرائیل کا غزہ کے الشفاء اسپتال پر حملہ، حماس کے مطابق امریکا نے ’اجازت‘ دے دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
9 منٹس read

اسرائیلی افواج نے بدھ کے روز غزہ کے سب سے بڑے ہسپتال پر چھاپہ مارا اور اس جگہ کو نشانہ بنایا جو ان کے مطابق حماس کا ایک کمانڈ سنٹر ہے جو ہزاروں مریضوں اور شدید لڑائی سے پناہ لینے والے شہریوں کے زیرِ زمین سرنگوں میں بنا ہوا ہے۔

غزہ شہر کے الشفاء ہسپتال میں آپریشن کا مطلب سنگین حالات میں اندر پھنسے لوگوں کے لیے ہفتوں سے بڑھتی ہوئی تشویش کو گویا نکتۂ عروج پر لانا ہے اور یہ حماس کو تباہ کرنے کے لیے اسرائیل کی مہم کا ایک اہم مقصد ہے۔

جیسا کہ فوج نے اطلاع دی کہ اس نے طبی سہولت پر ایک "درست اور ہدفی" آپریشن کیا تو اے ایف پی کے ساتھ رابطے میں ایک صحافی نے بتایا کہ درجنوں اسرائیلی فوجی جن میں سے کچھ چہرے پر ماسک پہنے ہوئے تھے اور ہوا میں گولی چلا رہے تھے، نے جوانوں کو ہتھیار ڈالنے کا حکم دیا۔

حماس کے زیرِ انتظام وزارتِ صحت کے ایک اہلکار یوسف ابو ریش نے اے ایف پی کو بتایا کہ وہ کمپلیکس کے اندر ٹینک اور ایمرجنسی اور استقبالیہ عمارتوں کے اندر درجنوں فوجی اور کمانڈوز دیکھ سکتے تھے۔

اسرائیلی فوج نے اسے طبی سہولت کے "مخصوص علاقے میں حماس کے خلاف ایک درست اور ہدفی آپریشن" قرار دیا۔ فلسطینی عسکریت پسندوں نے بارہا اسپتال میں قائم خفیہ فوجی مرکز کی تردید کی ہے۔

امریکہ اور دیگر کی جانب سے سخت انتباہات کے بعد کہ الشفاء کو محفوظ رکھنا ضروری ہے، اسرائیل نے کہا کہ یہ حملہ "آپریشنل ضرورت" کی بنیاد پر کیا جا رہا تھا۔

اقوامِ متحدہ نے کہا ہے کہ اس کا اندازہ ہے کہ کم از کم 2,300 افراد - مریض، عملہ اور بے گھر شہری – اندر موجود ہیں اور شدید لڑائی کی وجہ سے فرار ہونے میں ناکام ہو سکتے ہیں۔

عینی شاہدین نے ہسپتال کے اندر کے حالات کو خوفناک قرار دیا ہے جہاں طبی طریقہ کار بے ہوشی کے بغیر ہو رہا ہے، کھانے یا پانی کی قلت کا شکار خاندان راہداریوں میں مقیم ہیں اور خراب ہوتی ہوئی لاشوں کی بدبو سے فضا مسموم ہے۔

اسپتال کے ڈائریکٹر محمد ابو سلمیہ نے منگل کو اسرائیلی چھاپے سے پہلے کہا، "ہسپتال کے احاطے میں لاشیں پڑی ہیں اور مردہ خانے میں اب بجلی نہیں ہے۔"

7 اکتوبر کو حماس کے حملوں میں ایک اندازے کے مطابق 1,200 افراد ہلاک ہوئے جن میں زیادہ تر عام شہری تھے اور 240 افراد کو یرغمال بنا لیا گیا جس کے جواب میں وزیرِاعظم بنجمن نیتن یاہو نے حماس کے خاتمے کا عزم ظاہر کیا ہے۔

غزہ میں حماس کے زیرِ انتظام وزارتِ صحت نے کہا ہے کہ اسرائیل سے آنے والی فضائی بمباری اور زمینی کارروائی میں 11,320 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں زیادہ تر عام شہری ہیں اور ان میں ہزاروں بچے بھی شامل ہیں۔

آپریشن کے خلاف شدید ردِعمل کی توقع کرتے ہوئے اسرائیلی فوج نے کہا کہ اس نے عام شہریوں کے لیے انخلاء کے راستے فراہم کیے ہیں اور حماس کے زیرِ انتظام غزہ میں حکام کو 12 گھنٹے کا نوٹس دیا ہے کہ اندر کوئی بھی فوجی آپریشن بند ہونا چاہیے۔

"ہسپتال میں موجود حماس کے تمام دہشت گردوں سے ہتھیار ڈالنے" کا دوبارہ مطالبہ کرتے ہوئے اسرائیلی فوج نے کہا، "بدقسمتی سے ایسا نہیں ہوا۔"

اسرائیلی فوج نے کہا اس کی زمینی ٹیموں میں طبی ماہرین اور عربی دان شامل ہیں "جنہوں نے اس پیچیدہ اور حساس ماحول کی تیاری کے لیے مخصوص تربیت حاصل کی ہے۔"

مزید کہا گیا، "ارادہ یہ تھا کہ حماس کی جانب سے انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کیے جانے والے شہریوں کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔"

وائٹ ہاؤس کی انتباہات

غزہ میں حماس کے زیرِ انتظام وزارتِ صحت نے "عالمی برادری اور اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیلی طوفانی کارروائی کو روکنے کے لیے ضرور اور فوری مداخلت کریں۔"

انہوں نے کہا کہ ہسپتال کے اندر موجود ہزاروں افراد میں سے "650 بیمار اور ہزاروں زخمی لوگ تھے۔"

وائٹ ہاؤس نے چھاپہ مار کارروائی شروع ہونے کے فوراً بعد شہریوں کے تحفظ کے لیے اپنے خدشات کا اعادہ کیا۔

قومی سلامتی کونسل کے ترجمان نے کہا، "ہم ہسپتال پر ہوا سے حملہ کرنے کی حمایت نہیں کرتے اور وہاں تصادم نہیں دیکھنا چاہتے۔"

اہلکار نے مزید کہا کہ ایسی صورت حال نہیں ہونی چاہیے جس میں "معصوم، بے سہارا اور بیمار لوگ جو طبی امداد حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جس کے وہ حقدار ہیں، وہ گولیوں کے تبادلے میں پھنس جائیں۔"

قبل ازیں وائٹ ہاؤس نے کہا تھا کہ امریکی انٹیلی جنس ذرائع نے اسرائیل کے اس دعوے کی تصدیق کی کہ حماس اور ایک اور فلسطینی عسکریت پسند گروپ اسلامی جہاد نے الشفاء کے زیرِ زمین ایک آپریشنل "کمانڈ اینڈ کنٹرول نوڈ" کو دفن کر دیا تھا۔

بار بار ان دعوؤں کی تردید کرنے والی حماس نے کہا کہ امریکی صدر جو بائیڈن اس حملے کے لیے "مکمل طور پر ذمہ دار" ہیں، اور ان کی انتظامیہ پر الزام لگایا کہ وہ اسرائیل کو شہریوں کے خلاف مزید قتلِ عام کرنے کی "اجازت" دے رہی ہے۔

حماس کے زیرِ انتظام وزارتِ صحت کا حوالہ دیتے ہوئے اقوامِ متحدہ کے انسانی ہمدردی کے ادارے اوچا نے کہا کہ الشفا میں منگل کے روز 40 مریض ہلاک ہوئے جبکہ ہسپتال کے ڈائریکٹر ابو سلمیہ نے بتایا کہ کمپلیکس کے اندر ایک اجتماعی قبر میں 179 لاشیں دفن کی گئیں۔

'میرا خون بہہ رہا تھا'

غزہ کے دیگر اسپتالوں کی صورتحال بھی سنگین ہے اور عالمی ادارۂ صحت نے کہا ہے کہ 36 میں سے 22 ہسپتال جنریٹر کے ایندھن کی کمی، نقصان یا لڑائی کی وجہ سے کام نہیں کر رہے۔

اقوامِ متحدہ کی ایجنسی نے کہا، "کھلے ہوئے باقی 14 ہسپتالوں کے پاس نازک اور جان بچانے والی سرجریوں کو برقرار رکھنے اور مریضوں کی نگہداشت بشمول انتہائی نگہداشت فراہم کرنے کے لیے بمشکل کافی سامان ہے۔"

او سی ایچ اے کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق ڈبلیو ایچ او نے "خبردار کیا ہے کہ شمال میں ہسپتالوں کو خالی کروانا جیسا کہ اسرائیلی فوج نے مطالبہ کیا ہے، کچھ مریضوں کے لیے 'سزائے موت' کے مترادف ہو گا کیونکہ جنوب میں فعال ہسپتال زیادہ مریضوں کو داخل نہیں کر سکتے۔"

انسانی بحران میں 1.5 ملین وہ لوگ بھی شامل ہیں جو اقوامِ متحدہ کے مطابق جنوب کی طرف بھاگ گئے ہیں جب اسرائیل کی جانب سے شمالی نصف علاقے کو چھوڑنے کے لیے کہا گیا۔

حتیٰ کہ لڑائی سے بچنا بھی خطرناک ہے۔ زخمی فلسطینیوں نے اے ایف پی کو بتایا کہ کس طرح وہ جنوب کی طرف جاتے ہوئے حملے کا نشانہ بنے۔

حسن بیکر جس کے سر اور بازو پر پٹی بندھی تھی، نے کہا، "میں تین سے چار کلومیٹر (تقریباً دو میل) پیدل چلا جب میرا خون بہہ رہا تھا۔ کسی ایمبولینس کے علاقے میں داخل ہونے کا امکان نہیں تھا۔"

یرغمالی کی باتیں

اسرائیلی رہنما اب تک پانچ ہفتے پرانی جنگ میں یرغمالیوں کی رہائی تک جنگ بندی کے مطالبات کو مسترد کر چکے ہیں۔

حماس کے عسکری ونگ کے ترجمان ابو عبیدہ نے پیر کو کہا کہ اسرائیل نے 100 یرغمالیوں کو رہا کرنے کا کہا تھا جبکہ عسکریت پسند 200 فلسطینی بچوں اور 75 خواتین کو اسرائیلی جیلوں سے رہا کروانا چاہتے ہیں۔

ابو عبیدہ نے ایک آڈیو بیان میں کہا، "ہم نے ثالثین کو مطلع کیا کہ اگر ہمیں پانچ دن جنگ بندی کے مل جائیں اور غزہ کی پٹی میں ہمارے تمام لوگوں کو امداد پہنچا دی جائے تو ہم یرغمالیوں کو رہا کر سکتے ہیں لیکن دشمن تاخیر کر رہا ہے۔"

قطری وزارتِ خارجہ کے ترجمان ماجد بن محمد الانصاری جو یرغمالیوں کے معاہدے پر بات چیت کی نگرانی میں مدد کر رہے ہیں، نے کہا، غزہ کی "بگڑتی" ہوئی صورتِ حال معاہدے تک پہنچنے کی کوششوں میں رکاوٹ ہے۔

اسرائیلی حکومت پر بڑھتے ہوئے دباؤ کے ساتھ نیتن یاہو نے کہا کہ وہ یرغمالیوں کو نکالنے کے لیے "انتھک محنت" کر رہے ہیں۔

یرغمالیوں اور لاپتہ خاندانوں کے فورم نے کہا کہ یرغمالیوں کی رہائی کا مطالبہ کرنے کے لیے ان کے لواحقین نے منگل کو تل ابیب سے یروشلم میں وزیرِ اعظم کے دفتر تک پانچ روزہ احتجاجی مارچ کیا۔

اس گروپ نے بعد میں حکومت سے "غزہ سے تمام یرغمالیوں کو وطن واپس لانے کے لیے آج رات ایک معاہدے کی منظوری دینے" مطالبہ کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں