الشفاء ہسپتال پراسرائیلی فوج کا دھاوا، متعدد افراد گرفتار، مدد کی اپیلیں

اسرائیلی فوج کا شہریوں کو نقصان نہ پہنچانے کا دعویٰ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

غزہ شہر کے الشفاء میڈیکل کمپلیکس کے اندر پھنسے اور حراست میں لیے گئے فلسطینی شہریوں کی طرف سے مدد کے لیے اپیلوں کے دوران اطلاعات آئی ہیں کہ اسرائیلی فوج نے ہسپتال پر دھاوے کے دوران وہاں پرموجود بڑی تعداد میں زخمیوں اور دوسرے شہریوں کو توہین آمیز انداز میں حراست میں لینے کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کردیا ہے۔

دوسری طرف قابض اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ہسپتال کے عملے اور وہاں پر موجود کسی بھی شخص کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا ہے۔

واضح رہے کہ العربیہ کے نامہ نگار نے آج بدھ کےروز اطلاع دی تھی کہ اسرائیلی فورسز نے ہسپتال کے تمام کمروں اور تہہ خانوں کی تلاشی لی۔ اس دوران متعدد افراد کو حراست میں لینے کے بعد انہیں نامعلوم مقام پر منتقل کردیا ہے۔

"ہسپتال میں کوئی کوئی لڑائی جھگڑا نہیں ہوا"

دریں اثنا اسرائیلی فوج کے ایک سینیر اہلکار نے صحافیوں کو بیان دیتے ہوئے کہا کہ ’’رات کے وقت فوجیوں کے پہنچنے کے بعد کمپلیکس کے اندر کوئی لڑائی نہیں ہوئی اور نہ ہی طبی عملے یا مریضوں سے لڑائی ہوئی‘‘۔

’ٹائمز آف اسرائیل‘ کے مطابق انہوں نے مزید کہا کہ "ہم کمپلیکس کے اندر بیماروں، زخمیوں اور ہسپتال کے وارڈز سے دور ایک مختلف جگہ میں ہیں اور کمپلیکس کے طبی شعبوں سے ہمارا کوئی جھگڑا نہیں ہے"۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ "اسرائیلی فورسز کو ہسپتال کے اندر ایک مخصوص علاقے پر جاری چھاپے کے دوران حماس کے ہتھیار اور بنیادی ڈھانچہ ملا ہے۔" انھوں نے کہا کہ "ہمیں ٹھوس شواہد ملے ہیں کہ الشفا کمپلیکس حماس کے ہیڈ کوارٹر کے طور پر استعمال ہوتا تھا۔ ہم آنے والے گھنٹوں میں اس کے کچھ حصے رائے عامہ کے سامنے پیش کریں گے"۔

اس کے علاوہ انہوں نے نشاندہی کی کہ "قبل از وقت پیدا ہونے والے بچوں کو متبادل سہولیات میں منتقل کرنے کے حوالے سے فوج کی جانب سے پیش کردہ پیشکش اب بھی درست ہے"۔

کوئی پرامن راستہ نہیں

دوسری جانب غزہ کی پٹی کے ہسپتالوں کے ڈائریکٹر جنرل محمد ذقوت نے خان یونس میں ناصر میڈیکل کمپلیکس سے ایک پریس کانفرنس کے دوران تصدیق کی کہ “اسرائیلی فورسز الشفاء ہسپتال کے شعبہ جات میں مسلسل دس گھنٹے سے موجود ہیں اور انہوں نے تمام طبی عملے، مریضوں اور ساتھیوں کی تلاشی لی اور کچھ کو گرفتار بھی کیا ہے"۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ پچھلے عرصے کے دوران ہسپتال کو "آٹھ بڑے حملوں" کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

غزہ میں سرکاری انفارمیشن آفس نے آج تصدیق کی کہ اسرائیل نے ہسپتال سے باہر نکلنے کے محفوظ راستے فراہم کرنے کے بارے میں جو دعویٰ کیا وہ غلط تھا۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیلی فورسز نے 30 سے زائد افراد کو اس وقت گولیاں مار کر قتل کردیا جب انہوں نے ہسپتال چھوڑںے کی کوشش کی تھی۔

انہوں نے دنیا کے ممالک سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیلی طرز عمل کو روکنے کے لیے مداخلت کریں۔ انہوں نے اسرائیلی فوج کی کارروائیوں کو اخلاقیات اور انسانیت کے خلاف جرم قرار دیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں