ریاض کی قدیم شاہراہ سویلم جس کی وجہ شہرت بچوں کے کھلونوں کی مارکیٹ بنی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سعودی عرب کے دارالحکومت الریاض کی السویلم اسٹریٹ کی یاد خوشی کے لذتوں سے بھری پڑی ہے۔ جو لوگ شاہراہ سویلم کے بارے میں جانتے ہیں انہیں یہ بھی یاد ہوگا کہ یہ سڑک اپنے اطراف میں بچوں کے کھلونوں کی دکانوں کی وجہ سے پورے ملک میں مشہور تھی۔ اگرچہ آج بھی یہاں بچوں کے کھیل کے سامان کی ایک بڑی مارکیٹ موجود ہے مگراب اس میں پہلے جیسا کاروبار نہیں رہا ہے۔

اس مشہور سڑک کا نام "السویلم" اس کے قریب رہنے والے ریاض کے ایک خاندان کے نام پر رکھا گیا۔ یہ خاندان خاندان بجلی کے آلات کے شعبے میں کام کرنے کے لیے مشہور تھا۔

السویلم کو دارالحکومت کی قدیم ترین سڑک سمجھا جاتا ہے۔اس کے اطراف میں ساٹھ سال پرانی اور جدید ایسی دکانیں موجود ہیں جہاں صرف بچوں کے کھیل کا سامان خریدار اور بیچا جاتا ہے۔ اب یہ مارکیٹ کھلوں کی ہول سیل مارکیٹ بن چکی ہے جہاں اندرون اور بیرون ملک سے تاجرمال خریدنے آتےہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کی ٹیم نے مشہور تجارتی منڈی کے اطراف کا دورہ کیا۔ شاہراہ السویلم اور اس کے اطراف کی مارکیٹ نے ریاض کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

فیلڈ ٹور کے دوران کھلونوں کی دکانیں بھی نسبتاً پرسکون نظر آئیں، کیونکہ ان میں سے زیادہ تر ہول سیل کے ساتھ ساتھ ریٹیل بھی فروخت کرتے ہیں، لیکن کھلونوں کی دکانوں میں صارفین کو کم ہی دیکھا گیا۔

بہت سے لوگ اس بازار میں خریداری کے بجائے پرانی یادیں تازہ کرنے جاتے ہیں جب کہ بعض لوگ سیر تفریح اور مارکیٹ کی تاریخی اہمیت کے بارے میں جاننے کے لیے اس کا رخ کرتے ہیں،

فروخت میں نمایاں جمود

کارکنوں نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ السویلم کمرشل اسٹریٹ پر کھلونوں کی تھوک مارکیٹ میں کاروبار عروج پر نہیں کیونکہ تجارتی اسٹورز فروخت کی شرح میں غیر معمولی کمی دیکھ رہے ہیں۔

اس کے علاوہ کھلونوں کی ایک دکان کے مالک عبدالرحمٰن الزبیلی کا کہنا ہے کہ کھلونوں کے زیادہ تر تجارتی تاجر اب تھوک مارکیٹوں کے بجائے چین سے اپنا سامان خریدنے کو ترجیح دیتے ہیں جس کی وجہ سے اس کی فروخت میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔

روزانہ ایک لاکھ ریال کی سیل

اپنی زندگی کی دو دہائیاں بازار میں گزارنے والے الزبیلی نے بازار کی حقیقت بتاتے ہوئے کہا کہ حالیہ برسوں میں ہول سیل اسٹورز نے اپنی یومیہ فروخت تقریباً 70,000 سے 100,000 ریال تک ریکارڈ کی ہے۔ جبکہ اب ہم بمشکل ایک دن کے لیے فروخت کے ان اعداد و شمار کو حاصل کر پاتے ہیں۔

الزبیلی کا مزید کہنا ہے کہ اس وقت ہم نے جو ماہانہ فروخت کے اعداد و شمار حاصل کیے ہیں وہ پہلے کے برعکس مہینے کے آخر تک ایک لاکھ ریال تک پہنچ جاتے ہیں۔

کھلونوں کی ایک اور دکان کے مالک عبدالرحمٰن حریب نے السویلم مارکیٹ میں کمرشل کھلونوں کی دکانوں پر روزانہ کاروبار کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ اب تقریباً 70 فیصد کاروبار ہوتا ہے۔ ابو حماد کے مطابق موجودہ وقت میں اس میں نمایاں کمی دیکھی جا رہی ہے۔ فروخت کےتناسب میں تقریباً 80 فیصد کمی واقع ہوئی ہے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ چھٹیوں جیسے موسموں کے دوران بھی مارکیٹ میں زیادہ مانگ نہیں رہتی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں