ہمارا گروپ بحیرۂ احمر میں اسرائیلی جہازوں کو نشانہ بنائے گا: یمن کے حوثی رہنما

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یمن کے حوثی رہنما نے منگل کو کہا کہ ان کی افواج اسرائیل پر مزید حملے کریں گی اور وہ بحیرۂ احمر اور آبنائے باب المندب میں اسرائیلی جہازوں کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔

ایران سے منسلک گروپ نے رواں ماہ اسرائیل کے خلاف متعدد میزائل اور ڈرون حملے کیے جس سے اسرائیل اور فلسطینی عسکریت پسند گروپ حماس کے درمیان جنگ کے وسیع تر شرقِ اوسط میں پھیلنے کا خطرہ ظاہر ہوتا ہے۔

گروپ کے فوجی ترجمان نے منگل کو کہا کہ یمن کے حوثیوں نے اسرائیل کے مختلف اہداف پر بیلسٹک میزائل حملوں کا ایک سلسلہ شروع کیا ہے جن میں ایلات میں اسرائیل کی حساس تنصیبات بھی شامل ہیں۔

ترجمان نے مزید کہا کہ یہ حملہ "انہی اسرائیلی اہداف پر ڈرونز کی ایک اور فوجی کارروائی کے 24 گھنٹے بعد" کیا گیا۔

ترجمان نے کہا، یہ گروپ "بحیرء احمر میں یا کسی اور جگہ پر جہاں وہ پہنچ سکے، کسی بھی اسرائیلی جہاز کو نشانہ بنانے سے دریغ نہیں کرے گا۔"

حوثی جو 2015 سے عرب قیادت والے اتحاد کے خلاف برسرِ پیکار ہیں، جزیرہ نما عرب میں ایک بڑی فوجی قوت کے طور پر ابھرے ہیں جن کے پاس دسیوں ہزار جنگجو اور بیلسٹک میزائلوں اور مسلح ڈرونز کا ایک بڑا ذخیرہ ہے۔

یہ گروپ شمالی یمن اور اس کے بحیرۂ احمر کے ساحلوں کو کنٹرول کرتا ہے۔

عبدالمالک الحوثی نے ایک نشریاتی تقریر میں کہا، "ہماری آنکھیں بحیرۂ احمر میں خاص طور پر باب المندب اور یمنی علاقائی پانیوں کے قریب کسی بھی اسرائیلی جہاز کی مسلسل نگرانی اور تلاش کے لیے کھلی ہیں۔"

7 اکتوبر کو حماس کے جنگجوؤں کے اسرائیل میں گھس کر 1,200 افراد کی ہلاک کر دینے کے بعد سے واشنگٹن ایران کے حمایت یافتہ گروپوں کی سرگرمیوں کی سخت چوکسی سے نگرانی پر مامور ہے۔

تب سے اسرائیل نے غزہ پر اپنے حملے میں اضافہ کیا ہے جہاں فلسطینی حکام کے مطابق اس کی افواج نے 11,000 سے زائد افراد کو ہلاک کر دیا ہے۔

لڑائی کے بڑی حد تک رک جانے سے یمن جنگ تعطل کا شکار ہوگئی ہے لیکن فریقین اقوامِ متحدہ کی ثالثی میں اکتوبر میں ختم ہونے والی جنگ بندی کی تجدید کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں