ہم غزہ کے اندر پہنچ چکے، فوج پورے غزہ میں کارروائیاں کر رہی ہے: گیلنٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

غزہ کی پٹی میں اسرائیل اور فلسطینی دھڑوں کے درمیان جنگ کے انتالیسویں دن اسرائیلی وزیر دفاع یوآو گیلنٹ نے اعلان کیا کہ اسرائیلی افواج غزہ شہر کے مرکز تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئی ہیں۔

گیلنٹ نے منگل کی شام ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ حماس نے شمالی غزہ کے علاقوں پر اپنا کنٹرول کھو دیا ہے۔

"عسکری کارروائیاں جاری رہیں گی "

انہوں نے مزید کہا کہ "غزہ میں ہماری فوجی کارروائیاں نہیں رکیں گی اور اس میں پوری پٹی شامل ہوگی اور کوئی محفوظ جگہ نہیں ہوگی۔"

انہوں نے مزید کہا کہ "زمینی آپریشن کا ایک مقصد قیدیوں کے تبادلے کے معاملے پر حماس پر دباؤ ڈالنا ہے"۔

انہوں نے زور دیا کہ اسرائیل شمال سے کسی بھی خطرے کا جواب دینے کے لیے کسی بھی منظر نامے کے لیے تیار ہے۔

غزہ کی پٹی میں اسرائیلی ٹینک
غزہ کی پٹی میں اسرائیلی ٹینک

حماس کے لیے 200 اہدف پر بمباری

علاوہ ازیں اسرائیلی فوج کے ترجمان ڈینیئل ہاگری نے اعلان کیا کہ فوج نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران غزہ کی پٹی میں حماس کے تقریباً 200 اہداف کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے ایک بیان میں مزید کہا کہ فوج نے اپنی زمینی کارروائیوں کے دوران ایک مسجد کے اندر ایک سرنگ اور اسلحہ دریافت کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ لڑاکا طیاروں نے ایک مسلح گروپ پر حملہ کیا جس نے فوجی دستوں پر فائرنگ کی۔

ہاگری نے ان مقامات پر حملے کا اعلان کیا جو ان کے بقول جنگی سازوسامان، میزائل لانچنگ پیڈز اور فوجی کمانڈ ہیڈ کوارٹرز کی تیاری کے لیے تھے۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیلی بحریہ نے حماس کے ایک مرکزپر حملہ کیا جسے اس کی بحریہ نے تربیت اور ہتھیاروں کو ذخیرہ کرنے کے لیے استعمال کیا۔

گذشتہ 27 اکتوبر سے اسرائیل نے غزہ کی پٹی میں زمینی دراندازی کا آغاز کیا، اور وہ اس پٹی کے شمال کو اپنے جنوب سے کافی حد تک الگ کرنے میں کامیاب رہا، جبکہ شمال میں متعدد مقامات کو گھیرے میں لے لیا۔ ان مقامات میں الشفاء ہسپتال بھی شامل ہے۔

اسرائیلی فوج نے فوجی نقصانات سے بچتے ہوئے غزہ شہر میں بھی تھوڑی سی پیش قدمی کی۔ اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے، اس نے ایک نیا حربہ یا منصوبہ اپنایا جس کے لیے ملٹری انٹیلی جنس ڈیپارٹمنٹ کی مخصوص ٹیموں کو زمین پر موجود فورسز یا انفنٹری بریگیڈز کے ساتھ ساتھ انجینئرنگ ٹیموں کے ساتھ اندر داخل کیا گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ فضائی بمباری بھی کی جا رہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں