دوسرا سفارتی مرحلہ شروع،یرغمالیوں کی رہائی،غزہ کامستقبل اوردفاع اسرائیل سر فہرست

مشرق وسطیٰ کے لیے وائٹ ہاؤس کے رابطہ کاراہم مشن پر پہنچ رہے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مشرق وسطیٰ کے امور کو دیکھنے کے لیے امریکی وائٹ ہاوس اور دفتر خارجہ میں بروئے کار اعلیٰ امریکی ذمہ دار اسرائیلی یرغمالیوں کی محفوظ رہائی اور غزہ میں جنگی امر سمیت مستقل کے منظر نامے پر حمایت حاصل کرنے کے لیے مشرق وسطیٰ کے دوروں پر نکل رہے ہیں۔

مشرق وسطیٰ کے امور کے لیے وائٹ ہاؤس میں رابطہ کار بیرٹ میک گرک مغربی کنارے، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، اردن بحرین ، قطر کے علاوہ اسرائیل کا بھی دورہ کریں گے۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق 'امریکی حکم کے پیش نظر یرغمالیوں کی محفوظ رہائی کا ایجنڈا اہم ہے ، وائٹ ہاؤس کے مطابق ان یرغمالیوں میں ایک بچہ بھی شامل ہے جس کی عمر صرف تین سال ہے۔

بلاشبہ ایک تین سالہ بچے کا تحفظ ایک انسانی مسئلہ بھی ہے اور حساس معاملہ بھی۔ اس لیے اس کا تحفظ ایجنڈے میں اوپر ہی ہونا چاہیے۔

اپنے اس غیر ملکی دورے کے دوران مشرق وسطیٰ اور افریقہ کے لیے وائٹ ہاؤس کے رابطہ کار بیرٹ میک گرک برسلز میں نیٹو اتحادیوں اور یورپین سے ملاقاتوں اور تبادلہ خیال کے لیے بھی رکیں گے۔ تاہم مشرق وسطیٰ میں فوکس انسانی بنیادوں پر طے کیے جانے والے امور پر رہے گا۔

اس سلسلے میں امدادی کارروائی اور اقتصادی حوالے سے ایک دباؤ کی کیفیت رکھی جائے گی تاکہ حماس کو غزہ میں چھپائے یرغمالیوں کی فوری رہائی کے لیے آمادہ کیا جائے۔

میک گرک کو دفتر خارجہ کی معاون وزیر باربرا لیف بھی جوائن کریں گی۔ امریکی نمائندہ اسرائیلی کی دفاعی ضروریات کے علاوہ غزہ میں یرغمالیوں کے امور پر بات کرے گا۔بعد ازاں فلسطینی اتھارٹی کی حمایت کے لیے مغربی کنارے جائیں گے۔

خلیجی ممالک کے ساتھ حماس کے مستقبل کے بارے میں بات ہوگی۔ آخر میں اردن کا دورہ کرے ہوئے اردن کے لیے امریکی حمایت اور فلسطینی ریاست کے امور پر بات کریں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں