فلسطین اسرائیل تنازع

غزہ ملبے تلے سے پیاروں کی لاشیں نکالنے کا کام شروع ، بغیر مشینری 10 لاشیں نکالی جاسکی

حکومت کے پاس کرین ، بلڈوزر اور ایندھن تک موجود نہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

یہ غزہ ہے جہاں کے ہزاروں لوگوں کو ابھی اپنے شہید ہونے والے پیاروں کی لاشوں کی تلاش ہے۔ یہ تلاش اپنے تباہ شدہ گھروں، عمارتوں، سکولوں اور ہسپتالوں کے ملبے سے کی جارہی ہے۔ بغیر ضروری مشینری کے اب تک صرف 10 شہدا کی لاشیں نکالی جاچکی ہیں۔ مجموعی طور اس وقت 2700 سے زائد فلسطینی لاپتہ ہیں ، جن میں 1500 لاپتہ فلسطینی بچے بھی شامل ہیں۔

ملبے میں بمباری سے ٹوٹے ہوئے بلاک بھی ہیں اور پلازوں کے بلاک بھی ہیں ۔ اب بھی ان کے نیچے خطرہ ہے کہ سینکڑوں بچوں ، عورتوں اور بوڑھوں کی لاشیں دبی پڑی ہیں۔

اب تک بے گوروکفن رہ جانے والی یہ لاشیں اس لئے ملبے کا حصہ ہیں کہ مسلسل اسرائیلی بمباری کی وجہ سے تباہ شدہ گھروں کے تباہ حال مکین انہیں نکال نہ پائے تھے۔ اسرائیلی بمبار طیارے دن یا رات کے کسی وقت میں بمباری کر کے جاتے تو بچ جانے والے عزیزو اقارب کی پہلی ترجیح زخمیوں کو نکالنا ہوتا تھا۔

لاشوں کی باری پھر اگلی بمباری کے بعد بھی نہ آپاتی۔ یوں اگلی بمباری اور اس سے اگلی بمباری کا سلسلہ جاری رہتا ۔ ملبے پر ملبہ گرتا گیا۔ بارہا ایسا بھی ہوا کہ جن بچے کھچے افراد خانہ نے ان لاشوں کو زخمیوں کو نکالنے کے بعد نکالنا تھا وہ بھی کسی اگلی بمباری میں وہ خود بھی زخمی یا شہید ہو جاتے تھے۔

اب بھی بمباری تو جاری ہے مگر کئی علاقں میں جہاں اب سب کچھ ملبے کا ڈھیر بن چکا ہے اسے نشانہ بنانے کی اسرائیلی ترجیح نہیں رہی۔ اسی وجہ سے اب ان علاقوں کے ملبے سے لاشیں نکالنے کا کام شروع ہوگیا ہے۔

پانچ ہفتے سے زیادہ عرصے سے جاری اندھا دھند اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں غزہ کی گلیاں قبرستانوں میں تبدیل ہو چکی ہیں۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے امور کے نگران دفتر کے مطابق غزہ میں اس وقت بھی 2700 فلسطینی آج بھی لاپتہ ہیں۔ ان کے بارے میں کوئی نہیں جانتا کہ یہ زندہ ہیں یا نہیں۔ ان کی کہیں تدفین ہو چکی ہے یا ابھی ملبے کے نیچے ہی دبے ہوئے ہیں۔

اقوام متحدہ کے مطابق ان 2700 لاپتہ افراد میں 1500 فلسطینی بچے ہیں۔ یہ تعداد ان ہلاک شدہ فلسطینیوں کے علاوہ ہے جن کی تعداد 11200 سے زیادہ بتائی جاتی ادھر غزہ میں سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ ان کے پاس ایسے آلات اور افرادی قوت نہیں ہیں جن کی مدد سے ملبے کے نیچے سے ان لاپتہ افراد کی تلاش کی جا سکے ، یا اگر یہ لوگ ملبے تلے دب کر ہلاک ہو گئے ہیں تو ن کی لاشیں نکالی جا سکیں۔

فلسطینی شخص محمد ابو دقہ، جو اسرائیلی حملوں میں بچ گیا جس میں خاندان کے 8 افراد ہلاک ہو گئے تھے اور اب بھی اپنے گھر کے ملبے تلے دبے تین دیگر افراد کی تلاش کر رہے ہیں، اکتوبر کو جنوبی غزہ کی پٹی میں خان یونس میں کھنڈرات کے سامنے اپنے ایک رشتہ دار کے ساتھ ردعمل ظاہر کر رہے ہیں۔ 15، 2023. (رائٹرز)

غزہ کی حکومت کا یہ بھی مسئلہ ہے کہ مسلسل لاک ڈاؤن کی وجہ سے ان کے پاس اب ایندھن بھی نہیں ہے کہ مشینری کو بروئے کار لا کر ملبہ ہٹا سکیں۔

غزہ میں اس وقت بڑے حصے کا کنٹرول اسرائیلی فوج سنبھال چکی ہے، اسرائیلی فوج کے انتباہات کے نتیجے میں لاکھوں لوگ غزہ سے جا چکے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود جنوبی غزہ میں بمباری جاری ہونے کا مطلب یہ ہے کہ آج بھی غزہ میں کوئی جگہ کسی فلسطینی کے لیے محفوظ نہیں ہے۔

غزہ حکومت کے ترجمان کے مطابق فلسطینی شہری دفاع کے محکمے، غزہ پرائمری سرچ اور ریسکیو فورس کے پاس دو درجن کارکنان سے زائد بمباری میں مارے جا چکے ہیں جبکہ 100 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔

اب تک حکومت کے پاس موجود گاڑیوں اور مشینری میں سے نصف سے زائد بمباری سے تباہ ہو چکی ہے یا ایندھن نہ ہونے کی وجہ سے عملاً ناکارہ ہے۔

وسطی غزہ کے اندر اور اور شمالی غزہ کے بیرونی جنگی علاقے میں شہری دفاع کے ڈائریکٹر کا کہنا ہے کہ ان کے سرے سے کوئی مشین موجود نہیں ہے، کوئی کرین بچی ہے نہ بلڈوزر باقی ہے۔

جبکہ بلند و بالا عمارات جو اب گر چکی ہیں کا ملبہ اٹھانے کے لیے کم از کم پانچ بڑے بلڈوزروں کی ضرورت ہے۔ تاکہ دیر البلاح ، سید برج ، رامی علی العایدی میں ملبہ اٹھانے کا کام کیا جاسکے۔

ملبے سے لاشیں نکالنے کی ان مشینیوں اور ایندھن کے جاری کوششوں کے نتیجے میں اب تک صرف دس شہدا کی لاشیں ملبے سے نکالی جا چکی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں