غزہ میں جاری بمباری سے مزید ہلاکتوں اور نقل مکانی کا اندیشہ

خان یونس کے علاقے میں شہریوں کو اپنے گھر چھوڑنے کا کہہ دیا ۔ حماس پر بمباری کرنا ہے ۔ اسرائیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

اسرائیلی فوج نے خان یونس پناہ گزین کیمپ پر رات بھر بمباری کی اور صبح کے وقت کتابچے تقسیم کرنا شروع کر دیے کہ علاقے میں مقیم فلسطینی اپنے گھر چھوڑ کر نکل جائیں تاکہ ان علاقوں میں حماس کے خلاف مزید کارروائی کیا جاسکے۔ اسرائیلی فوج کی طرف سے یہ کتابچے جمعرات کے روز تقسیم کیے گئے ہیں۔

اسرائیلی فوج نے اس خوف کا اظہار کیا ہے کہ اگر اگر ایسا نہ کیا گیا تو حماس ان علاقوں میں بھی پھیل جائے گی۔ جن میں کارورائی نہیں کی گئی۔ گویا ایک بار پھر غزہ کی ایک ایک گلی اور ایک ایک گھر کو بمباری سے تباہ کرنے کی تیاری جاری ہے۔ تاکہ غزہ کا ایک ایک رہنے والا بتدریج بے گھر ہو کر اسرائیلی فوج کے رحم و کرم پر رہے۔

دوسری جانب اسرائیلی فوج نے ایک بار پھر اس ارادے کا اظہار کیا ہے کہ وہ الشفا ہسپتال سے نہیں نکلے گی۔ تاہم اسرائیل نے اب تک ہسپتال میں گذارے وقت اور کیے گئے آپریشن کے نتائج کے حوالے سے کوئی تفصیل جاری نہیں کی ہے۔

اسرائیلی فوج کی 'الشفا ہسپتال ' میں موجودگی کی وجہ سے ہسپتال میں کیا ہو رہا ہے اور اسرائیلی فوج کیا کیا کارروائیاں کر چکی ہے اس بارے میں کوئی بین الاقوامی ادارہ بھی آزادانہ طور پر 'کوریج' یا رپورٹنگ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ '

تاہم اسرائیلی فوج کی طرف سے ابھی تک اپنے اس دعوے کے حق میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا کہ 'الشفا ہسپتال' کو حماس اپنے مقاصد کے لیے بطور ہیڈ کوارٹر استعمال کر رہی تھی اور یہاں سے راکٹ فائر کیے تھے۔

اسرائیلی فوج کے ہسپتال میں داخلے کے بعد وہاں کے ڈاکٹروں کے ساتھ بھی بدھ کے روز سے رابطہ ممکن نہیں رہا ہے۔

اسرائیلی فوج کی طرف سے خان یونس کے علاقے میں جمعرات سے جہازوں کے ذریعے پھینکے گئے اشتہار 'لیف لیٹس' میں اسرائیلی فوج کی طرف سے پہلے کی طرح حکمیہ انداز اختیار نہیں کیا گیا ہے اشتہارات خان یونس کے مشرقی جانب بنی شہیلا ، خزاع ، ابسان اور قارار وغیرہ میں پھینکے گئے ہیں۔

یہ جنوبی غزہ کا بڑا شہری حصہ ہے۔ ان علاقوں میں مجموعی طور پر عام دنوں میں ایک لاکھ لوگوں کی رہائش ہے۔ اب تک ان میں سے دسیوں ہزار نقل مکانی کر چکے ہیں۔

'لیف لیٹس' میں کہا گیا ہے حماس ایک دہشت گرد گروپ ہے اس لیے اس کے خلاف اسرائیلی فوج کو رہائشی علاقوں میں کارروائی کرنا ہے۔' ان علاقوں کے لوگوں سے کہا گیا ہے یہ آپ لوگوں کی حفاظت کے لیے ضروری ہے۔ اس لیے آپ گھر بار چھوڑ کر یہاں سے نکل جائیں۔

فلسطینی شہریوں کا کہنا ہے کہ اس علاقے میں راتوں رات شدید بمباری کر دی گئی ہے۔ واضح رہے اسرائیل نے غزہ میں زمینی افواج اتارنے سے پہلے شمالی غزہ کے سارے علاقے جو کہ نصف غزہ پر مشتمل ہے غزہ خالی کر جانے کا حکم دیا تھا۔

اقوام متحدہ کا پہلے ہی کہنا ہے کہ غزہ کی 23 لاکھ کی آبادی میں سے دو تہائی شہری بے گھر ہو چکے ہیں۔ اب آنے والے دنوں میں خان یونس سے فلسطینیوں کے نئے انخلاء کے علاوہ فلسطینیوں کی مزید ہلاکتوں کا بھی اندیشہ ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں