فلسطین اسرائیل تنازع

غزہ میں یرغمال اسرائیلی خاتون کے ہاں بچے کی ولادت: دفتر اسرائیلی وزیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو کی اہلیہ نے بدھ کو اپنے دفتر سے جاری کردہ ایک خط میں کہا کہ سات اکتوبر کو یہودی بستی پر حملے کے دوران یرغمال بننے والی اسرائیلی خاتون نے دوران اسیری ایک بچے کو جنم دیا ہے۔

سارہ نیتن یاہو نے امریکی خاتونِ اول جِل بائیڈن کو لکھے گئے خط میں کہا۔ "اغوا شدہ خواتین میں سے ایک حاملہ تھی۔ حماس کی قید میں خاتون کے ہاں بچے کی ولادت کی اطلاع موصول ہوئی ہے۔"

سارہ نیتن یاہو نے لکھا، "آپ میری طرح صرف تصور کر سکتی ہیں کہ اس نوجوان ماں کے دل پر کیا گذر رہی ہو گی جبکہ وہ اپنے نوزائیدہ بچے کے ساتھ ان قاتلوں کے ہاتھوں قید ہے۔"

"ہمیں ان کی اور تمام اسیر لوگوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کرنا چاہیے۔ جو خوفناک خواب ایک ماہ قبل شروع ہوا، اب ختم ہو جانا چاہیے۔"

اسرائیلی حکام نے کہا ہے کہ ملک کی تاریخ کے مہلک ترین حملے میں حماس کی جنوبی اسرائیل پر یلغار کے بعد تقریباً 240 افراد کو غزہ لے جایا گیا۔ حملے میں 1200 افراد ہلاک ہوئے جن میں زیادہ تر عام شہری تھے۔

حماس کے زیرِ انتظام فلسطینی علاقے میں وزارتِ صحت کے مطابق اسرائیل کے انتقامی حملوں میں غزہ میں 11,300 سے زیادہ افراد کو ہلاک ہو چکے ہیں جن میں زیادہ تر عام شہری بھی ہیں۔

سارہ نیتن یاہو نے یہ بھی لکھا کہ یرغمالیوں میں ایک 10ماہ کا بچہ بھی شامل تھا۔

انہوں نے کہا، "وہ چلنا یا بولنا سیکھنے سے پہلے ہی اغوا ہو گیا۔"

اس عمر کا ایک بچہ ان 206 افراد میں سے ایک تھا جسے اے ایف پی نے رشتہ داروں کے انٹرویوز اور اسرائیلی میڈیا رپورٹس کی بنیاد پر شناخت کیا ہے جن کے بارے میں خیال ہے کہ وہ غزہ کی پٹی کے اندر حماس یا دیگر گروہوں کے زیرِ حراست ہیں۔

منگل کے روز امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا ان کا خیال تھا کہ یرغمالیوں کی رہائی کے لیے حماس کے ساتھ ایک معاہدہ "ہونے والا" تھا لیکن انہوں نے اس کی تفصیلات نہیں دیں۔

قطر جو یرغمالیوں کی رہائی کے لیے مذاکرات کی قیادت کر رہا ہے، نے اسرائیل اور حماس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ قیدیوں کی رہائی کے لیے ایک معاہدے طے کریں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں