فلسطین اسرائیل تنازع

غزہ میں ’خلا نہیں چھوڑ سکتے: اسرائیلی صدر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

فنانشل ٹائمز (ایف ٹی) نے جمعرات کو رپورٹ کیا کہ اسرائیلی صدر آئزیک ہرزوگ نے کہا اسرائیل غزہ میں کوئی خلا نہیں چھوڑ سکتا اور اسے وہاں ایک مضبوط قوت برقرار رکھنی ہوگی تاکہ مستقبل قریب میں حماس کو پٹی میں دوبارہ ابھرنے سے روکا جائے۔

ہرزوگ نے ایف ٹی کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا۔ "اگر ہم پیچھے ہٹیں گے تو کون معاملات کو سنبھالے گا؟ ہم خلا نہیں چھوڑ سکتے۔ ہمیں سوچنا ہوگا کہ طریقۂ کار کیا ہوگا؟ بہت سے خیالات ہوا میں پھینکے جاتے ہیں۔"

انہوں نے مزید کہا۔ "لیکن کوئی بھی غزہ کو دوبارہ دہشت گردی کے مرکز میں تبدیل نہیں کرنا چاہے گا۔"

گذشتہ ہفتے اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو نے اے بی سی نیوز کو بتایا کہ جنگ کے بعد اسرائیل کے پاس "غیر معینہ مدت کے لیے" انکلیو کی حفاظت کی ذمہ داری ہوگی لیکن امریکہ یہ کہتے ہوئے پیچھے ہٹ گیا کہ جب اسرائیل حماس کے خلاف جنگ ختم کر دے تو فلسطینیوں کو غزہ پر حکومت کرنی چاہیے۔

ہرزوگ نے ایف ٹی کو بتایا کہ اسرائیل کی حکومت اس بارے میں بہت سے خیالات پر بحث کر رہی ہے کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ ختم ہونے کے بعد غزہ کو کیسے چلایا جائے گا اور انہوں نے مزید کہا کہ ان کا خیال ہے کہ امریکہ اور "خطے میں ہمارے ہمسایہ ممالک" تنازع کے بعد کے معاملات میں کسی حد تک حصہ لیں گے۔

امریکی صدر جو بائیڈن نے بدھ کے روز کہا کہ انہوں نے اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو پر واضح کر دیا ہے کہ دو ریاستی حل ہی اسرائیل-فلسطین تنازع کے حل کا واحد جواب ہے اور غزہ پر قبضہ ایک "بڑی غلطی" ہو گا۔

اسرائیل نے 7 اکتوبر کے حملوں کے بعد غزہ پر حکمرانی کرنے والے عسکریت پسند گروپ کے خلاف اپنی بے رحمانہ مہم شروع کی۔

اسرائیل نے غزہ کی 23 لاکھ آبادی کو محاصرے میں لے رکھا ہے اور فضائی بمباری کی ہے۔ غزہ کے صحت کے حکام جنہیں اقوامِ متحدہ کی طرف سے قابلِ اعتماد سمجھا جاتا ہے، نے کہا ہے کہ اسرائیل کے ہاتھوں تقریباً 11,500 فلسطینیوں کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے جن میں سے 40 فیصد کے قریب بچے ہیں اور مزید لوگ ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں