مغربی کنارا: صورت حال سنگین ہے, بعد از جنگ بندی فوری مذاکرا ت کیے جائیں . روس

غزہ جنگ کے سبب مغربی کنارے پر توجہ نہیں دی جارہی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

روس نے فلسطین کے علاقے مغربی کنارے میں پیدا شدہ صورت حال کی سنگینی سے خبر دار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مغربی کنارے غزہ کی پٹی کے واقعات کی وجہ سے اس پر کم توجہ دی جارہی ہے مگر یہ بھی معاملہ سنگین تر ہو رہا ہے۔ یہ بات روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے جمعرات کے روز کہی ہے۔

انہوں نے کہا 'مغربی کنارے میں جو کچھ چل رہا ہے اس پر کم لکھا اور بولا گیا ہے۔ سب کی توجہ غزہ کی پٹی پر مرکوز رہی ہے۔ لیکن مغربی کنارے میں بھی اسرائیلی کارروائیوں کے درجنوں متاثرین ہیں۔'

روسی خبر رساں ادارے کے مطابق وزیر خارجہ نے کہا' اسرائیلی فورسز کے چھاپے بھی مغربی کنارے میں جاری ہیں اور یہ بہت 'الارمنگ بات ہے۔' ا

انہوں نے مزید کہا ' یہ الارمنگ سے زیادہ سنگینی والی صورتحال ہے۔ کیونکہ یہ مسئلہ دیرینہ ہے۔ جس کا ایک ہی حل ہے کہ فلسطینی ریاست کا قیام عمل میں لایا جائے ، جیسا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرار دادوں میں ذکر کیا گیا ہے۔'

وزیر خارجہ روس نے مزید کہا ' اس مسئلے کے حل کو جتنا لمبا کیا جاتا رہے گا ، خطے کا استحکام اتنا ہی دور ہوتا جائے گا ۔'

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہم واضح طور پر بتاتے ہیں کہ غزہ میں جیسے ہی جنگ بندی ہوا ور غزہ کے شہریوں کے لیے مناسب امداد دینے کے ساتھ ساتھ فوری طور پر فلسطین کے معاملے پر مذاکرات کے لیے بیٹھنا ہوگا نیز فلسطینی ریاست کی تخلیق کے لیے بیٹھنا ہو گا۔'

انہوں نے کہا ' مغربی کنارے میں آزاد فلسطینی ریاست کے لیے اسرائیلی اقدامات کی وجہ سے تھوڑی سی صورت باقی بچی ہےکیونکہ اسرائیلی حکام نےیکطرفہ طور پر بہت سے اقدامات کرکے یہودی آبادیاں بسائی ہیں۔ ان یہودی آباد کو عام طور پر دنیا میں تسلیم نہیں کیا جاتا ، حتیٰ کہ امریکہ نے بھی ان یہودی بستیوں اور اس طرح اقدامات کی مذمت کی ہے۔'

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں