’کیرکوم‘کانفرنس میں سعودیہ کی شرکت، مملکت کی شرکت کتنی اہم ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

کیریبین ایسوسی ایشن کے ممالک کے ساتھ سعودی سربراہی اجلاس کا انعقاد ایک موثر بین الاقوامی گروپ کے ساتھ قابل ذکر شراکت داری کے لیے ریاض کے کھلے پن کو تقویت دینے کے ساتھ دوطرفہ تجارتی تعلقات کے لیے مواقع پیدا کرنےکا موقع ہے، کیونکہ موجودہ سال کے لیے دو طرفہ تجارتی تبادلے کا حجم 200 ملین ریال کی حد عبور کرگیا۔

محققین نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے سعودی عرب کی میزبانی میں اپنی نوعیت کی پہلی سربراہی کانفرنس کوغیرمعمولی اہمیت کی حامل قرار دیا کیونکہ یہ ایکسپو کی میزبانی کے لیے مملکت کی امیدواری کی طرح باہمی تعاون کو مربوط کرے گی۔ نیز علاقائی اور بین الاقوامی مسائل پر موقف میں ہم آہنگی پیدا کرے گی۔

سیاسی محقق ڈاکٹر سالم الیامی کا کہنا ہے کہ سعودی عرب اور CARICOM ممالک کو بین الاقوامی نظام کے فعال رکن تصور کیا جاتا ہے۔اصول دنیا کے ممالک کے درمیان دوستانہ تعلقات اور تعاون کے قیام پر زور دیتے ہیں، جبکہ ریاض اس گروپ کو اس کے آبادیاتی اور جغرافیائی سیاسی وزن کے ساتھ ساتھ اس کے بین الاقوامی سیاسی اثر و رسوخ کے تناظر میں دیکھتا ہے۔

الیامی نے کہا کہ کیریبین کمیونٹی ممکنہ طور پر خطے کے مسائل کو سمجھنے کے لیے ایک ترجیحی سیاسی آواز بن سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مملکت میں سیاسی عمل کے ابتدائی نکات اسٹریٹجک کمپنیوں اور طویل مدتی سرمایہ کاری پر مبنی ہیں۔

تعاون کے نئے افق

دوسری جانب امام محمد بن سعود یونیورسٹی کے کالج آف اکنامکس کے ڈین ڈاکٹر محمد مکنی نے توقع ظاہر کی ہے کہ کیریبین ممالک کے ساتھ سعودی شراکت داری کو مضبوط بنانے کے نتیجے میں معیشت، سرمایہ کاری، تجارت اور سیاحت کے شعبوں میں تعاون کے نئے افق کھلیں گے‘‘۔

اس کے علاوہ کیریبین ممالک کے ساتھ شراکت داری مملکت میں سیاحتی ماحول کی کشش کو اجاگر کرنے کے علاوہ سرکاری اور نجی شعبوں جیسے کہ خوراک اور زرعی صنعتوں کے درمیان شراکت داری کی تشکیل کو متاثر کرنے کا ذریعہ ثابت ہوگی۔

انسانی امداد اورترقی

انسانی ہمدردی کے محاذ پر سعودی عرب نے کیریبین ممالک کو اپنے ترقیاتی اور امدادی بازو سعودی فنڈ برائے ترقی کے ذریعے تقریباً چار دہائیوں سے انسانی اور ترقیاتی امداد فراہم کی ہے، جب کہ اس سال کے آغاز سے اب تک اس نے انہیں تقریباً بارہ شعبوں میں 670 ملین ڈالر کی امداد دی ہے۔

سعودی عرب نے اپنی سرکاری یونیورسٹیوں کے ذریعے کیریکوم ممالک کے طلباء کے لیے تقریباً 294 نشستیں مختص کی ہیں، جب کہ ملک کے اندر ان ممالک کے کارکنوں کی تعداد تقریباً 200 مرد و خواتین ملازمین تک پہنچ گئی ہے۔

"سعودی عرب کا CARICOM ممالک کے ساتھ" سربراہی اجلاس کا انعقاد حالیہ عرصے میں ریاض کی جانب سے غزہ جنگ کے اثرات پر تبادلہ خیال کرنے کے لیےعرب اور اسلامی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس کے انعقاد کے ذریعے کی جانے والی قابل ذکر سعودی سفارتی سرگرمی کے بعد سامنے آیا ہے۔

اس اجلاس میں غزہ کی پٹی کی صورت حال پرغور کے ساتھ اسرائیل سے فلسطینیوں کے خلاف جرائم کی روک تھام پر زور دیا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں