اسرائیل اپنے قیدیوں کی بھاری قیمت ادا کرے گا: اسماعیل ھنیہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

حماس کے سیاسی بیورو کے سربراہ اسماعیل ہنیہ نے جمعرات کو کہا ہے کہ اسرائیل حماس کی طرف سے مقرر کردہ قیمت ادا کرنے کے علاوہ اپنے قیدیوں کو واپس نہیں لے گا۔ انہوں نے کہا کہ حماس "طویل جنگ" لڑنے کے لیے تیار ہے۔

حماس کے سیاسی بیورو کے سربراہ نے ایک ٹیلی ویژن تقریر میں کہا کہ صرف فلسطینی عوام کو غزہ کی پٹی اور پورے فلسطین کے مستقبل کا تعین کرنے کا مکمل حق حاصل ہے۔

ہنیہ نے اسرائیل اور اس کی حمایت کرنے والوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ حماس ایک تحریک ہے جس کی جڑیں اس کی سرزمین پر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل اور اس کے اتحادی غزہ کی پٹی میں حقیقت کو تبدیل نہیں کر سکیں گے۔

حماس اسرائیل کے ساتھ "اسٹریٹجک جنگ " چھیڑ رہی ہے کہا کہ اگر دشمن چاہتا ہے کہ یہ ایک طویل جنگ ہو تو ہم اپنے دشمن سے زیادہ طویل جنگ کے لیے تیار ہیں۔

ہنیہ نے اس ہفتے کے آغاز میں ریاض میں منعقدہ عرب اسلامی سربراہی اجلاس کے جاری کردہ فیصلوں پر عمل درآمد کا مطالبہ کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ عرب اور مسلمان ممالک اسرائیلی جارحیت کو روکنے، غزہ کی پٹی کا محاصرہ فوری طور پر توڑنے، اور مقدس مقامات کی حفاظت سے متعلق اقدامات پرعمل درآمد کرائیں "۔

گذشتہ ہفتے کے روز منعقد ہونے والی عرب اسلامی سربراہی کانفرنس میں غزہ کا محاصرہ توڑنے اور ایندھن سمیت انسانی امداد کی فوری طور پر پٹی میں داخلے کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں