حماس کے لیے ہماری حمایت جنگ شامل ہونا نہیں: سابق ایرانی وزیر خارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

سابق ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے ایک پریس انٹرویو میں سپریم لیڈر علی خامنہ ای اور حزب اللہ کے سربراہ حسن نصر اللہ کے موقف کی تعریف کی، جس میں حماس کے ساتھ جنگ میں شامل ہونے سے گریز کا اظہار کیا۔ انہوں نے اسے "سمارٹ" پوزیشن قرار دیا۔

جواد ظریف نے مزید کہا کہ "مزاحمت کے لیے ہماری حمایت میں حماس کے ساتھ جنگ شامل ہونا نہیں ہے"۔

یہ بات ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایرانی وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان نے جمعہ کو اعلان کیا تھا کہ ان کے ملک کے حکام نے امریکا کو سفارتی ذرائع کے ذریعے کہا ہے کہ ایران کو فلسطینی اسرائیل تنازع کو مزید بڑھانے میں کوئی دلچسپی نہیں۔

عبداللہیان نے برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا: "ہم نے امریکا کو مطلع کیا کہ ایران جنگ نہیں پھیلانا چاہتا، لیکن کوئی بھی آپشن (واقعات کی پیش رفت میں) ممکن ہے۔"

ایرانی وزیر کے مطابق ایران اور امریکا نے گذشتہ چالیس دنوں کے دوران تہران میں سوئس سفارتخانے کے امریکی سیکشن کے ذریعے رابطے کیے جس کے دوران تہران اور واشنگٹن کے درمیان براہ راست بات چیت کے امکان کو رد کر دیا گیا۔

کل جمعرات کو ایرانی وزیر خارجہ نے عراق اور شام میں امریکی مفادات پر حملوں کی اپنے ملک کی ذمہ داری سے انکار کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ یہ حملے کرنے والے مسلح دھڑے اپنے فیصلے خود لیتے ہیں۔

غزہ کی پٹی میں جاری جنگ کے حوالے سے عبداللہیان نے سی بی ایس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ہم قطعی طور پر نہیں چاہتے کہ یہ بحران پھیلے لیکن امریکا اسرائیل کی بھرپور حمایت سے غزہ میں جنگ کی وحشت میں اضافہ کر رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں