مشرق وسطیٰ

شام اور عراق میں امریکی فوج پر رواں ہفتے تین حملے، کل تعداد 58 ہو گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

پینٹاگون نے کہا کہ منگل سے عراق اور شام میں امریکی افواج پر تین بار حملے کیے گئے جس سے 17 اکتوبر سے اب تک امریکی فوجیوں پر حملوں کی کل تعداد 58 ہو گئی۔

اس سوال پر کہ کیا پینٹاگون مزید مضبوط اور مؤثر کارروائی کرنے سے پہلے کسی سروس ممبر کی ہلاکت کا انتظار کر رہا تھا، ڈپٹی پریس سکریٹری سبرینا سنگھ نے صحافیوں کو بتایا: "نہیں، بالکل نہیں۔"

شرقِ اوسط میں امریکی فوج کی پوزیشن میں اضافے کے بعد حملوں میں اضافہ ہوا ہے جس سے 60 کے قریب امریکی فوجی زخمی ہو چکے ہیں۔

حماس کی جانب سے 7 اکتوبر کو اسرائیل پر اب تک کا مہلک ترین حملہ ہونے کے بعد واشنگٹن نے ہزاروں فوجیوں کے ساتھ ساتھ جنگی جہازوں اور لڑاکا طیاروں کی خطے میں تعیناتی کا حکم دیا۔

امریکہ نے درجنوں حملوں کا تین بار اعلانیہ جواب دیا ہے۔

سنگھ نے امریکی پالیسی اور ردِعمل کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ تمام حملے "ناکام" ہوئے ہیں اور سروس ممبران کو "نمایاں نقصان" پہنچانے میں کامیاب نہیں ہوئے۔

کئی فوجیوں کو دماغی تکلیف دہ چوٹیں آئی ہیں لیکن سب ڈیوٹی پر واپس آگئے ہیں۔

سنگھ نے کہا، "ان ہتھیاروں تک ان ملیشیا گروپوں کی جو رسائی ہے، ہمارے حملوں نے نمایاں طور پر ان میں تنزلی کی ہے۔"

امریکہ کے تازہ ترین جوابی حملے میں ایک گودام اور تربیتی مرکز کو تباہ کر دیا گیا جس کے بارے میں پینٹاگون نے کہا کہ اسے شام میں ایران کی حمایت یافتہ ملیشیا اور جنگجو استعمال کر رہے تھے۔ عراق میں 30 سے زائد بار نشانہ بننے کے باوجود امریکہ نے تاحال عراق کے اندر جنگجوؤں اور ایران کی پشت پناہی کے حامل عسکریت پسندوں کو کوئی جواب نہیں دیا۔

سنگھ نے مزید کہا امریکہ کا خیال ہے کہ وہ "ایران کو جواب دینے اور پیغام بھیجنے میں بہت مؤثر رہا ہے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں