غزہ کو امداد کی فراہمی دوبارہ معطل، فاقوں کا خدشہ ناگزیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایندھن کی قلت اور مواصلات کی بندش کی وجہ سے اقوام متحدہ کی غزہ کو امدادی سامان کی فراہمی جمعے کو ایک بار پھر معطل ہو گئی۔

امداد نہ ملنے کے نتیجے میں بھوک کا شکار اور بے گھر ہزاروں فلسطینی شہریوں کی مشکلات بڑھ گئیں۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اقوام متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام (ڈبلیو ایف پی) نے کہا کہ خوراک کی فراہمی میں کمی کی وجہ سے شہریوں کو ’فاقے کے فوری خدشے‘ کا سامنا ہے۔

اقوام متحدہ نے کہا کہ ایندھن کی قلت اور مواصلاتی رابطے نہ ہونے کی وجہ سے جمعے کو سرحد پار سے کوئی امدادی کارروائی نہیں ہو گی۔

جمعرات کو مسلسل دوسرے روز بھی امدادی ٹرک غزہ میں نہیں پہنچے جس کی وجہ امدادی سامان لے جانے کے لیے ضروری ایندھن کی کمی ہے۔

مصری سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ ایندھن کے تین ٹرک جمعے کو مصر سے غزہ میں داخل ہونے کے لیے تیار تھے، لیکن علاقے کے اندر موجود ایک امدادی اہلکار کا کہنا ہے کہ اس بات کی تصدیق نہیں کی گئی کہ مزید ایندھن لایا جائے گا۔

ڈبلیو ایف پی کی ایگزیکٹیو ڈائریکٹر سنڈی میک کین نے کہا کہ غزہ کی تقریباً پوری آبادی کو خوراک کی اشد ضرورت ہے۔

ڈبلیو ایچ او کی اپیل

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے جمعے کو مطالبہ کیا ہے کہ غزہ سے مصر میں علاج کے لیے مریضوں کی باقاعدگی سے آمد و رفت کی اجازت دی جائے تاکہ مقامی ہسپتالوں پر دباؤ کم کیا جا سکے جہاں مریضوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ محصور فلسطینی علاقے میں ترجیحی مریضوں کو علاج کے لیے لے جانے کی خاطر نظام قائم کرنے کی ضرورت ہے۔

واضح رہے کہ غزہ کی پٹی کے 36 میں سے 25 ہسپتال کام نہیں کر رہے اور باقی ماندہ ہسپتالوں کو خدمات فراہم کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔

مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں ڈبلیو ایچ او کے نمائندے رچرڈ پیپرکورن نے کہا: ’یہ (ہسپتال) واضح طور پر جارحیت کی وجہ سے پیدا ہونے والی لامتناہی ضروریات پوری کرنے کے لیے کے لیے کافی نہیں۔‘

جینیوا میں پریس بریفنگ میں انہوں نے شدید زخمی افراد اور بیمار مریضوں کے روزانہ مستقل، منظم، بلا روک ٹوک اور محفوظ طبی کے لیے ہمسایہ ملک مصر انخلا پر زور دیا۔

مقبوضہ بیت المقدس سے ویڈیو لنک کے ذریعے بات کرتے ہوئے پیپرکورن نے کہا کہ ایک دن میں 50 سے 60 مریضوں کو مصر منتقل کیا جانا چاہیے، جہاں انہیں صحیح علاج اور دیکھ بھال کی سہولت ملے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں