نیتن یاہو اور انتہا پسندوں کی حکومت تبدیل کرنے کا وقت آگیا: اسرائیلی اپوزیشن رہنما

ہمیں لیکود پارٹی کی سربراہی میں ایک قومی تنظیم نو والی حکومت بنانے کی ضرورت ہے: یائر لاپڈ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیلی اپوزیشن لیڈر یائر لاپڈ نے کہا ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ وزیر اعظم نیتن یاہو اور انتہا پسندوں کی حکومت کو تبدیل کردیا جائے۔ یاھو حکومت ختم کرکے لیکود پارٹی کی قیادت میں اتحادی حکومت بنانے کے لیے وسیع حمایت حاصل کی جائے گی۔

یائر لاپڈ سینٹرسٹ تحریک سے تعلق رکھتے ہیں اور گزشتہ سال مختصر طور پر وزیر اعظم کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔ انہوں نے کہا میں سمجھتا ہوں کہ 120 سیٹوں والی کنیسٹ کے ارکان کی بڑی اکثریت ایسی ایسی مخلوط حکومت کی حمایت کرے گی۔

لاپڈ کے بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب 7 اکتوبر کو غزہ کی پٹی کے آس پاس کی بستیوں پر حماس کے اچانک حملے کے بعد سے اسرائیل نے غزہ پر لرزہ خیز بمباری اور زمینی حملہ جاری رکھا ہوا ہے۔ اسرائیل اپنی جارحیت میں 11500 فلسطینیوں کو شہید کر چکا ہے۔

لیپڈ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر لکھا کہ لیکود پارٹی اسرائیل میں حکمران اتحاد کی سب سے بڑی جماعت ہے جس میں انتہا پسند قوم پرست اور مذہبی جماعتیں شامل ہیں۔ ان جماعتوں کے پاس کنیسٹ میں 64 سیٹیں ہیں۔ یائر لاپڈ نے جنگ کے آغاز میں نیتن یاہو کی تشکیل کردہ جنگی کابینہ میں شامل ہونے سے انکار کر دیا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم اگلے سال ایک اور انتخابی دور کے متحمل نہیں ہو سکتے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں