اسرائیلی بمباری سے تباہ حال فلسطینی شہری ایک ایک نوالے کو ترسنے لگے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

مسلسل اسرائیلی بمباری میں رہنے والی غزہ کی پٹی پر غلہ ذخیرہ کرنے والے مراکز کو بھی تبا کردیا ہے۔ جس کے بعد غزہ کے رہنے والوں کو ایک ایک نوالے اور روٹی کے حصول کے لیے بدترین مشکلات کا سامنا ہے۔

بدھ کے روز خان یونس میں غلہ ذخیرہ کرنے والے گودام کو اسرائیل کی طرف سے تباہ کر دینے کے بعد غزہ بیکری ایسوسی ایشن کے سربراہ کا کہنا ہے کہ 'اگر ہلال احمر کو اسرائیلی حکام کی طرف سے غزہ میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ملتی تو ہمیں کام کو روکنا پڑے گا۔'

واضح رہے غزہ کے خان یونس کے علاقے میں بدھ کے روز 3000 ٹن گندم سے بھرے ہوئے غلہ مرکز کو بمباری کر کے تباہ کیا ہے۔ تاہم مغربی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ وہ ابھی اس بات کی تصدیق کرنے سے قاصر ہیں کہ بمباری سے تباہ شدہ غلہ مرکز میں موجود غلہ کا کیا بنا ہے۔

اقوام متحدہ کے انسانی بنیادوں پر کام کرنے والے ادارے 'اوچا' نے بتایا کہ ایک دن پہلے آٹا مل 'السلام' کو بھی اسرائیل نے بمباری کر رکے تباہ کر دیا تاکہ فلسطینی شہریوں کو خوراک ملنا بھی بند ہوجائے۔

خیال رہے غزہ میں بمباری سے قبل فلور ملوں کی تعداد 5 تھی جن میں سے 2 فلور ملوں کو اسرائیل نے بمباری کر کے تباہ کر دیا ہے۔ اسرائیل نے غزہ اور حماس کی مکمل تباہی کا ارادہ بار بار ظاہر کیا ہوا۔ اسے لیے اسرائیل نے پانی اور بجلی کے نظام کو تباہ کرنے کے ساتھ ساتھ خوراک، ادویات اور علاج معالجے کے سب سسٹم کو تباہ کر دیا ہے۔

غزہ میں بھوک کا اندیشہ ہے اور دستیاب آٹے کے تھیلوں کی 200 ڈالر فی بوری قیمت وصول کی جا رہی ہے۔

اقوام متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں فلسطینی شہریوں کو سخت بھوک اور قحط کا خطرہ لاحق ہو چکا ہے۔ پانی، بجلی، ایندھن کی عدم دستیابی سے بھی مزید مشکلات بڑھ رہی ہیں۔

'انروا' کا کہنا ہے کہ غزہ میں صرف 2000 ٹن گندم باقی رہ گئی ہے۔ جو کہ فلسطینیوں کی ضرورت کو پورا نہیں کر سکتی۔ انروا نے مزید بتایا کہ وہ 80 بیکریوں کے ساتھ کام کرتی ہے لیکن وہ سب کی سب اسرائیلی بمباری کی وجہ سے تباہ ہو چکی ہیں۔

واضح رہے اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں منگل کے روز غزہ کی ایک بڑی بیکری بھی تباہ ہوگئی تھی کہ بیکری کے سولر سسٹم کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

'اوچا' نے بتایا کہ غزہ میں روٹی بنانے کے لیے آٹا، پانی کچھ بھی دستاب نہیں ہے۔ فلسطینی شہری بھوک اور قحط کا شکار ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں