اسرائیلی فوج کاحکم،سینکڑوں زخمی ومریض الشفاء ہسپتال سے بغیرایمبولینسوں کےپیدل منتقل

پیدل نہ چل سکنے والے 120 زخمی اب بھی ہسپتال میں موجود

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

غزہ کے الشفاء ہسپتال سے سینکڑوں زخمیوں اور مریضوں کو ایمبولینسوں اور گاڑیوں کے بغیر پیدل منتقل کیا گیا ہے۔ بین الاقوامی میڈیا کے نمائندوں نے زخمیوں اور مریضوں کی اس طرح دوسرے ہسپتال میں منتقل کرنے کے مناظر دیکھے۔

' الشفاء کی انتظامیہ کو یہ اسرائیلی فوج کے حکم پر مجبوراً کرنا پڑا۔ اسرائیلی فوج نے ہسپتال خالی کرنے کا حکم دے رکھا تھا۔

حماس کے وزیر صحت کے مطابق اب 120 زخمی الشفاء ہسپتال میں موجود ہیں۔ جبکہ قبل از وقت ولادت پانے والے نومولود بچوں کی بھی ایک تعداد موجود ہے۔ تاہم ان نومولود بچوں کی متعین تعداد نہیں بتائی گئی ہے۔

وزارت صحت کے مطابق اس سلسلے میں وہ ہلال احمر کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ علاوہ ازیں طبی عملے کے بعض ارکان بھی ہسپتال میں رکھے گئے ہیں تاکہ باقی ماندہ زخمیوں کو دیکھ سکیں۔ اب صرف وہی زخمی ہسپتال میں موجود ہیں جو پیدل منتقل نہیں کیے جا سکتے تھے۔

دوسری جانب اسرائیلی فوج نے اس بات کی تردید کی ہے کہ اس نے زخمیوں اور مریضوں کو ' الشفاء ہسپتال سے نکالنے کا کوئی حکم دیا تھا۔ اسرائیلی فوج کے مطابق اس نے ہسپتال کے ڈائریکٹر کی یہ درخواست قبول کی ہے کہ اسے ہسپتال میں موجود مزید مریضوں اور زخمیوں کو نکالنے کے لیے سہولت دی جائے۔'

اقوام متحدہ کے اندازے کے مطابق الشفاء ہسپتال میں تقریباً 2300 مریض اور بے گھر لوگ اسرائیلی فوج کی ہسپتال پر چڑھائی کے وقت موجود تھے۔

واضح رہے اسرائیلی فوج کی طرف سے حماس پر الزام لگایا جاتا رہا ہے کہ حماس ہسپتال کو اپنی ہائیڈ آؤٹ کے طور پر استعمال کرتی ہے۔ لیکن اپنے ہسپتال کے اندر تک کی تلاشی اور تہہ خانوں کو کھنگال مارنے کے باوجود اسرائیلی فوج نے ابھی تک کوئی ثبوت پیش نہیں کیا ہے۔

وزارت صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ درجنوں زخمیوں اور مریضوں کی اموات ہسپتال میں صرف اس لیے ہو گئیں کہ وہاں بجلی اور جنریٹرز کے جلنے کی سہولت سب کچھ ختم ہو گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں