غزہ جنگ: امریکہ کے ساتھ بالواسطہ رابطے رہے، ایرانی وزیر خارجہ

امریکی دھمکیوں سے حزب اللہ اپنے جنگی فیصلوں کو تبدیل نہیں کر سکتا، انٹرویو میں اظہار خیال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

ایرانی وزیر خارجہ نے حزب اللہ کے لیے امریکی دھمکیوں کے بارے میں کہا ہے کہ ان دھمکیوں کی وجہ سے حزب اللہ اپنے جنگی فیصلوں کے بارے میں رکے یا احتیاط نہیں کرے گا۔

ایرانی وزیر خارجہ نے اس موقع پر یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ غزہ کی جنگ کے پچھلے چالیس دنوں کے دوران امریکہ اور ایران کے درمیان دو طرفہ رابطے جاری رہے ہیں اور ایک دوسرے کے پیغام آتے جاتے رہے ہیں۔ ایرانی وزیر خارجہ نے اس امر کا اظہار ایک انٹرویو میں کیا ہے۔

جس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان یہ رابطے غزہ کے جنگ کے بارے میں اٹھنے والے سوالات اور مشرق وسطی سے متعلق ایرانی اور امریکی حکمت عملی کے ایشوز پر یہ رابطے سوئس سفارتخانے کے ذریعے ہوتے رہے۔ جسے امریکہ نے ایران میں اپنے مفادات کی نگرانی کے لیے ذمہ داری دے رکھی ہے۔

غزہ اور اسرائیل کے درمیان جنگ شروع ہوتے ہی امریکہ نے اپنی فوجی قوت اور جدید ترین اثاثوں کو خطے میں منتقل کر دیا تھا۔ جن کو اب واپس دنیا کے مختلف خطوں میں بھجوانا شروع کر چکا ہے۔ بطور خاص ان جنگی ہتھیاروں کو انڈو پیسیفک میں بھیجا جا رہا ہے۔

پینٹاگون نے اس سلسلے میں بار بار کہا کہ اس کے ہزاروں فوجی بحری بیڑوں اور دیگر ہتھیاروں کے ساتھ علاقے میں موجود ہیں تاکہ اسرائیل کے خلاف کسی بھی کھلنے والے محاذ کو روک سکیں اور اسرائیلی دفاع کیا جا سکے۔ جبکہ ایرانی وزیر خارجہ کے بقول ایران نے امریکہ کو یہ بتادیا تھا کہ وہ مشرق وسطی میں جنگ کو بڑھاوا نہیں دینا چاہتا۔

حسین امیر نے اپنے انٹرویو میں کہا ہے 'ہم نے انہیں بتا دیا تھا کہ ایران جنگ کا پھیلاو نہیں چاہتا۔ لیکن اگر غزہ اور مغربی کنارے میں امریکی اور اسرائیل کی وجہ سے لوگوں کے خلاف جرائم جاری رہے تو پھر کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ حتی کہ ایک بڑی جنگی صووتحال کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔'

لبنانی حزب اللہ کے لیے امریکی دھمکیوں کے سامنے آنے پر کہ اگر حزب اللہ نے غزہ کی لڑائی کو اسرائیل کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش کی اور جنگ چھیڑنا چاہی تو اس کو نتائج بھگتنا ہوں گے۔

حسین امیر نے کہا'وہ نہیں سمجھتے کہ اس طرح کی دھمکیوں کے نتیجے میں کوئی گروپ یا حزب اللہ اپنے جنگی فیصلوں کے بارے میں احتیاط کی طرف جا سکتے ہیں۔'

واضح رہے حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل حسن نصراللہ نے دھمکی دی تھی کہ ان کا گروپ لبنانی ساحلوں کے قریب آئے ہوئے امریکی اہداف کو نشانہ بنا سکتا ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے یہ بھی کہا کہ ایرانی فورسز کے حکام یہ یقین رکھتے ہیں کہ خطے میں امریکی طیارہ بردار جہازوں کی موجودگی ہماری رسائی میں ہو جاتی ہے۔ جو کہ امریکہ کے لیے کوئی مضبوط اور اچھی بات نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اہداف کسی بھی ممکنہ کارروائی کے نتیجے میں امریکہ کو مشکلات میں ڈال سکتے ہیں۔

حزب اللہ کو امریکہ، یورپ کے کئی ملکوں اور کئی عرب ملکوں کی طرف سے دہشت گرد گروپ قرار دینے کے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ حزب اللہ ہو یا عراق، شام یا فلسطین کا کوئی دوسرا مسلح گروپ وہ سب اپنے فیصلوں میں آزاد ہیں۔ البتہ فلسطین میں ہلاک ہونے والے مسلمانوں کے حوالے سے ان سب گروپوں کی ایک ہی رائے ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں