غزہ کا جبالیہ کیمپ، ایک دن میں دو بار بمباری، 80 سے زائد فلسطینی شہید

صبح کے وقت ایک سکول کی عمارت نشانہ بنی، بعد ازاں ایک بلڈنگ ہدف ٹھہری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

غزہ میں قائم پناہ گزین کیمپ جبالیہ پر اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں 80 سے زائد فلسطینی شہید ہو گئے ہیں۔ ہفتے کے روز اسرائیلی فوج نے اس علاقے میں دو مختلف اوقات میں بمباری کی ہے۔

پہلی بار صبح سویرے جبالیہ کیمپ کو ٹارگٹ کر کے بمباری کی گئی جس کے نتیجے میں کم از کم 50 فلسطینی شہید ہوئے جبکہ دوسری بار کی گئی بمباری کے نتیجے میں 32 فلسطینی شہید ہو گئے۔

اس بمباری کے لیے اسرائیلی فوج نے الفخورا نامی سکول کو ہدف بنایا تھا۔ یہ سکول سات اکتوبر کے بعد سے بے گھر لوگوں کے سر چھپانے کی جگہ بنا ہوا ہے۔ اسرائیلی فوج اس لیے اس سکول کو ہدف بنا کر پچاس کے لگ بھگ فلسطینییوں کو ہلاک کر دیا ہے۔

جبالیہ غزہ کا سب سے بڑا پناہ گزین کیمپ پے۔ اس میں حالیہ چھ ہفتوں کی بمباری کے دوران سولہ لاکھ فلسطینی بے گھر ہوتے دیکھے گئے ہیں۔

وزارت صحت غزہ کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ جبالیہ پناہ گزین کیمپ پر دوسری بار کی گئی بمباری کے نتیجے میں ایک ہی فلسطینی خاندان 32 افراد شہید ہوئے۔ ان شہیدوں میں 19بچے بھی شامل ہیں۔

تاہم اس بارے میں اسرائیلی فوج نے پوچھے جانے پر بھی ابھی تک لب کشائی نہیں کی اور اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے 'اونروا' نے بھی کچھ نہیں بولا ہے۔

خیال رہے اسرائیلی فوج تقریباً چالیس دنوں سے غزہ کو مسلسل بمباری کے نشانے پر رکھے ہوئے ہے۔ جبکہ 'اونروا' کا کام پناہ گزینوں کی دیکھ بھال کرنا اور ان کی ضروریات کا خیال رکھنا ہوتا ہے۔ حماس نے پچھلے دنوں 'انروا' پر اسرائیل کے ساتھ ملے ہونے کا الزام لگایا تھا۔ جس کی 'انروا' نے تردید کی تھی۔

جبالیہ کیمپ میں ماہ نومبر کے آغاز میں تین دن بلا ناغہ کی جانے والی اسرائیلی بمباری سے 200 فلسطینی شہید ہو گئے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں