غزہ کے معاملے کا کوئی سکیورٹی یا فوجی حل نہیں: محمود عباس کی بوریل سے گفتگو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

فلسطینی صدر محمود عباس نے یورپی یونین کے نمائندے برائے خارجہ اور سیاسی امور جوزپ بوریل سے رام اللہ میں فلسطینی صدارتی صدر دفتر میں ملاقات کی۔ محمود عباس نے بوریل سے گفتگو میں کہا کہ یورپی یونین کی طرف سے اسرائیل پر دباؤ ڈالا جائے کہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر غزہ میں امدادی سامان کے داخلے کی اجازت دی جائے۔

فلسطینی خبر رساں ادارے کے مطابق محمود عباس نے القدس، غزہ کی پٹی اور مغربی کنارے سے فلسطینیوں کی نقل مکانی کو دو ٹوک انداز میں مسترد کرنے کے اپنے موقف کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا غزہ کی پٹی کا کوئی سکیورٹی یا فوجی حل نہیں ہے۔ غزہ کی پٹی فلسطینی ریاست کا اٹوٹ حصہ ہے۔

فلسطینی صدر نے یورپی یونین اور اس کے رکن ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ فلسطین کی ریاست اور اقوام متحدہ میں اس کی مکمل رکنیت کو تسلیم کریں۔ بعد ازاں فلسطینی وزیر اعظم محمد اشتیہ نے بوریل کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ غزہ سے بے گھر ہونے والوں کو اپنے گھروں کو واپس جانے کی اجازت دی جانی چاہیے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں